تہران: ایران کی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکرٹری جنرل علی لاریجانی نے کہا ہے کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کیے جا رہے ہیں، ایسی صورتحال میں ایران کو اپنے دفاع کا مکمل حق حاصل ہے۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے علی لاریجانی نے خطے کے ممالک کو پیغام دیا کہ وہ امریکا کو اپنی سرزمین ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روکیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران کو خطے کے ممالک سے کوئی دشمنی نہیں ہے اور علاقائی ممالک اس حقیقت سے بخوبی آگاہ ہیں کہ امریکا اب ان کی سکیورٹی کی ضمانت دینے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے ایران کے خلاف دشمنانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کیے گئے تو ایران حقِ دفاع کے تحت کارروائی کرنے پر مجبور ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی پالیسی واضح ہے کہ وہ کسی بھی جارحیت کا مناسب جواب دے گا۔
علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ایران پر حملے کرکے وہ اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کے بقول امریکا اپنے غلط اندازوں اور پالیسیوں کے باعث ایک پیچیدہ صورتحال میں پھنس چکا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران کئی امریکی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا ہے، تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
ایرانی رہنما نے کہا کہ بعض داخلی خامیوں کے باوجود ایرانی قوم دشمنوں کے خلاف متحد ہے اور امریکا اور اسرائیل کی جارحیت کا جواب دینے کے معاملے پر ایرانی قیادت میں کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا۔
علی لاریجانی کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے اقدامات کے نتیجے میں ایران کے سپریم لیڈر سمیت ایک ہزار سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں اور یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اس معاملے کو نظر انداز نہیں کرے گا اور ذمہ داروں کو اپنے اقدامات کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
آبنائے ہرمز سے متعلق بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ ایران نے اس اہم عالمی گزرگاہ کو بند نہیں کیا، تاہم جاری جنگی صورتحال کے باعث اس علاقے میں حالات ضرور متاثر ہوئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا لیکن اگر اس پر جارحیت کی گئی تو حملہ آوروں کو اس کی سزا ضرور ملے گی اور امریکا کو اپنے اقدامات کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گی۔