سعودی عرب کے جنگ میں شامل نہ ہونے پر امریکی سینیٹر کی ناراضی، دفاعی معاہدے پر بھی سوال اٹھا دیا

امریکا میں صدر Donald Trump کے قریبی اتحادی اور ریپبلکن سینیٹر Lindsey Graham نے ایران کے خلاف جاری کشیدگی کے دوران Saudi Arabia کی جانب سے جنگ میں براہِ راست حصہ نہ لینے پر مایوسی کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔

سعودی عرب کے مؤقف پر تنقید

امریکی سینیٹر لنزے گراہم نے ایک بیان میں کہا کہ سعودی عرب نے ایرانی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنی فوج استعمال کرنے سے انکار کر دیا ہے، جبکہ ان کے بقول Iran خطے میں بدامنی اور دہشت پھیلا رہا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایران کی کارروائیوں کے نتیجے میں سات امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جس پر امریکا کو سخت مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔

دفاعی معاہدے پر سوال

سینیٹر گراہم نے کہا کہ اگر سعودی عرب خطے میں مشترکہ مفادات کے لیے فوجی تعاون کے لیے تیار نہیں تو پھر امریکا کو اس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرنے پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو ایسے اتحادیوں کی ضرورت ہے جو مشکل حالات میں مشترکہ مفادات کے تحفظ کے لیے عملی کردار ادا کریں۔

ریاض میں امریکی سفارت خانے کی صورتحال

لنزے گراہم نے مزید کہا کہ سعودی دارالحکومت Riyadh میں قائم United States Embassy Riyadh کو بھی سکیورٹی خدشات کے باعث جزوی طور پر خالی کیا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ایران کی جانب سے مسلسل حملوں اور خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سفارت خانے کے عملے کو حفاظتی اقدامات کے تحت منتقل کیا جا رہا ہے۔

خطے میں بڑھتی کشیدگی

ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ ہو رہی ہے۔ اس صورتحال کے اثرات نہ صرف علاقائی سلامتی بلکہ عالمی سیاست اور معیشت پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر خطے میں بڑے ممالک براہ راست جنگ میں شامل ہوتے ہیں تو اس سے مشرقِ وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے عالمی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

Related posts

ایران کے خلاف جنگ اختتام کے قریب ہے، امریکا اپنے اندازوں سے آگے نکل چکا ہے: ٹرمپ

رمضان کا آخری عشرہ شروع، حرمین شریفین میں ہزاروں افراد اعتکاف میں بیٹھ گئے

ایران کے عرب ممالک پر بڑے حملوں کا انکشاف، 2000 ڈرونز اور 500 میزائل داغے گئے: نیویارک ٹائمز