امریکی میزائل حملہ اور جنگی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی — ہیومن رائٹس واچ نے تحقیقات اور جوابدہی کا مطالبہ کر دیا

واشنگٹن: بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر سارہ یاگر نے کہا ہے کہ ایران میں ایک اسکول پر مبینہ امریکی میزائل حملہ جنگی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کے زمرے میں آ سکتا ہے، اور اس واقعے کی مکمل اور شفاف تحقیقات ناگزیر ہیں۔

سارہ یاگر کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ایران کے شہر مناب میں واقع ایک لڑکیوں کے اسکول پر کیا جانے والا میزائل حملہ ممکنہ طور پر امریکی فوج کی کارروائی کا نتیجہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس بات کے شواہد نہیں کہ حملہ دانستہ طور پر بچوں سے بھرے اسکول کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا، تاہم اسے محض ایک غلطی قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

ہیومن رائٹس واچ کی ڈائریکٹر نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلح تنازعات کے دوران شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی جنگی قوانین واضح ذمہ داریاں عائد کرتے ہیں۔ ان قوانین کے مطابق فوجی کارروائیوں کے دوران تمام ممکنہ احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ عام شہریوں، خصوصاً بچوں، کو نقصان سے بچایا جا سکے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے میں ابتدائی معلومات یہ ظاہر کرتی ہیں کہ شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری احتیاطی اقدامات مؤثر انداز میں نہیں کیے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ اس حملے کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تناظر میں سنجیدگی سے جانچنے کی ضرورت ہے۔

سارہ یاگر نے مزید کہا کہ اس واقعے سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ جدید فوجی کارروائیوں میں شہریوں کے تحفظ کے لیے موجود نظام کس حد تک مؤثر ہے۔ ان کے مطابق امریکی فوج کو اپنے طریقہ کار کا ازسرِنو جائزہ لینا چاہیے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کو روکا جا سکے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ امریکی حکومت اس واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کروائے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا غلطی ثابت ہو تو ذمہ داروں کے خلاف مناسب کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور اصلاحات ہی وہ راستہ ہیں جن کے ذریعے جنگی کارروائیوں کے دوران شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق مسلح تنازعات میں شہریوں کو نشانہ بنانا یا ایسے حملے کرنا جن سے عام آبادی کو غیر متناسب نقصان پہنچنے کا خدشہ ہو، بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی تصور کیا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ ایران میں اسکول پر مبینہ میزائل حملے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے اور انسانی حقوق کی تنظیمیں اس معاملے میں مکمل وضاحت اور جوابدہی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

Related posts

امریکا کا ایرانی قیادت کے خلاف بڑا اقدام، مجتبیٰ خامنہ ای سمیت 10 رہنماؤں پر معلومات دینے والے کیلئے 10 ملین ڈالر انعام

ٹرمپ نے ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کرنے کی پیوٹن کی تجویز مسترد کر دی

آبنائے ہرمز کی کشیدگی کے بعد روسی تیل کی مانگ میں اضافہ، روس کو یومیہ کروڑوں ڈالر کی آمدنی