واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے افزودہ یورینیم کو روس منتقل کرنے سے متعلق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ تجویز ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی کے معاہدے کے تناظر میں پیش کی گئی تھی۔
رپورٹس کے مطابق روسی صدر نے یہ پیشکش حالیہ دنوں میں امریکی صدر کے ساتھ ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے دوران کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران سے متعلق صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے کیا گیا تھا۔
امریکی میڈیا کے مطابق پیوٹن نے تجویز دی تھی کہ ایران کا افزودہ یورینیم روس منتقل کر دیا جائے تاکہ جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کو کم کیا جا سکے اور خطے میں جاری کشیدگی کے خاتمے کے لیے کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ روس کی جانب سے اس نوعیت کی پیشکش پہلی بار نہیں کی گئی بلکہ ماضی میں بھی اسی طرح کی تجویز سامنے آ چکی ہے۔ تاہم امریکا نے اس تجویز کو پہلے بھی قبول نہیں کیا تھا اور اس بار بھی اسے مسترد کر دیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق روس کی یہ تجویز دراصل ایران کے جوہری پروگرام کو کنٹرول کرنے کے لیے ایک سفارتی راستہ فراہم کرنے کی کوشش تھی، جس کے تحت افزودہ یورینیم کو کسی تیسرے ملک میں منتقل کر کے ممکنہ خطرات کو کم کیا جا سکتا تھا۔
امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق خدشات کے حل کے لیے زیادہ سخت اور واضح اقدامات کی ضرورت ہے۔ امریکا طویل عرصے سے یہ مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
دوسری جانب خطے میں ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر سفارتی سرگرمیوں میں بھی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف ممالک اور عالمی قوتیں اس بحران کو کم کرنے اور کسی ممکنہ معاہدے کے ذریعے صورتحال کو قابو میں لانے کی کوشش کر رہی ہیں۔