واشنگٹن: ایران کے خلاف جاری جنگ نے امریکا کی داخلی سیاست میں ہلچل پیدا کر دی ہے اور صدر Donald Trump کی جماعت Republican Party کے اندر واضح اختلافات سامنے آ گئے ہیں۔ پارٹی کے کچھ بااثر رہنما اور کارکن جنگ کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ متعدد قدامت پسند شخصیات اسے غیر ضروری اور خطرناک اقدام قرار دے کر شدید تنقید کر رہی ہیں۔
برطانوی نشریاتی ادارے BBC کی ایک رپورٹ کے مطابق ریپبلکن حلقوں میں یہ مؤقف زور پکڑ رہا ہے کہ ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائی دراصل Israel کے مفادات سے جڑی ہوئی جنگ ہے اور امریکا کو اس تنازع میں براہِ راست ملوث نہیں ہونا چاہیے۔
ریپبلکن پارٹی میں نظریاتی تقسیم
سیاسی مبصرین کے مطابق اس معاملے نے ریپبلکن پارٹی کے اندر موجود نظریاتی تقسیم کو نمایاں کر دیا ہے۔ ایک دھڑا قومی سلامتی اور مشرقِ وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے تحفظ کے نام پر کارروائی کی حمایت کر رہا ہے، جبکہ دوسرا گروپ اسے امریکا کے لیے غیر ضروری جنگ قرار دے رہا ہے۔
امریکی میڈیا کی معروف شخصیت Tucker Carlson نے کھل کر کہا ہے کہ امریکا کو جلد از جلد اس تنازع سے باہر نکل جانا چاہیے۔ اطلاعات کے مطابق انہوں نے گزشتہ ماہ صدر ٹرمپ سے ملاقات میں بھی انہیں ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے باز رہنے کا مشورہ دیا تھا۔
عوامی رائے میں بھی اختلاف
حالیہ عوامی سروے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ کے معاملے پر امریکی عوام بھی منقسم نظر آتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق تقریباً 54 فیصد امریکی شہری ایران کے حوالے سے صدر ٹرمپ کی پالیسی سے اختلاف کرتے ہیں۔
جماعتی بنیادوں پر دیکھیں تو تقریباً 89 فیصد Democratic Party کے حامی اس جنگ کے مخالف ہیں جبکہ تقریباً 77 فیصد ریپبلکن ووٹرز اس کی حمایت کرتے ہیں۔ تاہم ریپبلکن ووٹرز کے اندر بھی واضح تقسیم موجود ہے۔
وہ ووٹر جو خود کو “میگا” (MAGA) یعنی ٹرمپ کے سخت حامی قرار دیتے ہیں ان میں تقریباً نو میں سے دس افراد جنگ کے حامی ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن جو خود کو اس گروپ سے وابستہ نہیں سمجھتے ان میں جنگ کے حوالے سے حمایت کم اور مخالفت زیادہ پائی جاتی ہے۔
قدامت پسند شخصیات کی کھلی تنقید
امریکی پوڈکاسٹر Joe Rogan نے اس جنگ کو “انتہائی پاگل پن” قرار دیا ہے۔ اسی طرح سابق رکنِ کانگریس Marjorie Taylor Greene نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام نے گزشتہ انتخابات میں مزید بیرونی جنگوں کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
کانگریس میں بھی اختلافات
اس معاملے پر United States Congress کے اندر بھی اختلافات سامنے آئے ہیں۔ ریپبلکن رکن کانگریس Thomas Massie نے ایک ایسے بل کی حمایت کی جس کے تحت کانگریس کو جنگی فیصلوں پر ویٹو کا اختیار دیا جا سکتا تھا، تاہم یہ تجویز کامیاب نہ ہو سکی۔
ہلاکتیں اور جنگی اثرات
جنگی کارروائیوں کے دوران اب تک کم از کم 13 امریکی شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں Iraq میں ایک طیارہ حادثے کے دوران جان سے ہاتھ دھونے والے چھ فوجی اہلکار بھی شامل ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکا میں عام طور پر جنگ کے ابتدائی مرحلے میں صدور کی مقبولیت میں اضافہ دیکھا جاتا ہے، تاہم اس بار صورتحال مختلف نظر آ رہی ہے کیونکہ ایران کے خلاف کارروائی کے باوجود صدر ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں کوئی نمایاں اضافہ نہیں ہوا۔
مبصرین کے مطابق اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو اس کے اثرات آئندہ امریکی انتخابات اور ریپبلکن پارٹی کی اندرونی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔