سوئٹزرلینڈ نے جنگی مقصد کی امریکی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

برن: Switzerland نے اپنی غیرجانبداری کی پالیسی کو برقرار رکھتے ہوئے United States کی دو فوجی پروازوں کو اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ سوئس حکام کا کہنا ہے کہ جنگ سے متعلق فوجی پروازوں کو اجازت دینا ملک کے غیرجانبداری کے قوانین کے خلاف ہوگا۔

سوئس حکام کے مطابق امریکی حکام کی جانب سے چند فوجی پروازوں کے لیے فضائی حدود استعمال کرنے کی درخواست کی گئی تھی، تاہم ابتدائی جائزے کے بعد دو پروازوں کو اجازت دینے سے انکار کر دیا گیا۔

غیرجانبداری کے قانون کا حوالہ

حکام نے وضاحت کی کہ سوئٹزرلینڈ طویل عرصے سے غیرجانبداری کی خارجہ پالیسی پر عمل کر رہا ہے، جس کے تحت وہ کسی جاری جنگ یا فوجی تنازع میں فریق نہیں بنتا اور اپنی فضائی حدود کو براہ راست جنگی کارروائیوں کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔

اسی بنیاد پر جنگی نوعیت کی امریکی پروازوں کو گزرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بعض پروازوں کو اجازت

تاہم سوئس حکام نے یہ بھی بتایا کہ امریکا کی تین دیگر پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دے دی گئی ہے کیونکہ ان کا تعلق جنگی کارروائیوں سے نہیں تھا۔

سوئٹزرلینڈ کے مطابق انسانی بنیادوں پر امدادی سرگرمیوں، طبی سہولیات یا زخمیوں کی منتقلی سے متعلق پروازوں کو عام طور پر اجازت دی جا سکتی ہے۔

انسانی امداد کے لیے رعایت

حکام کا کہنا ہے کہ اگر کسی پرواز کا مقصد انسانی امداد، طبی سامان کی ترسیل یا زخمی افراد کو منتقل کرنا ہو تو ایسی پروازوں کو سوئٹزرلینڈ کی فضائی حدود سے گزرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق سوئٹزرلینڈ کا یہ فیصلہ اس کی روایتی غیرجانبدار خارجہ پالیسی کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ عالمی تنازعات میں براہ راست شامل ہونے سے گریز کرتا ہے جبکہ انسانی امداد اور سفارتی کوششوں میں اپنا کردار جاری رکھتا ہے۔

Related posts

ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت بیان، سپریم لیڈر کی موت کی خبروں پر بھی تبصرہ

ایران سے کشیدگی پر امریکا میں سیاسی طوفان، ٹرمپ کی جماعت کے اندر اختلافات گہرے ہوگئے

پاکستان اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق