ٹرمپ کا ایران کے خلاف سخت بیان، سپریم لیڈر کی موت کی خبروں پر بھی تبصرہ

واشنگٹن: Donald Trump نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں ایک سخت بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ایسی اطلاعات ملی ہیں کہ ایران کے سپریم لیڈر Ali Khamenei کے صاحبزادے Mojtaba Khamenei اب زندہ نہیں رہے، تاہم انہوں نے خود ہی اس خبر کو غیر مصدقہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض افواہ بھی ہو سکتی ہے۔

امریکی صدر نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا کہ امریکا نے ایران کو فوجی اور معاشی طور پر شدید نقصان پہنچایا ہے اور حالیہ کارروائیوں میں Kharg Island کے بڑے حصے کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

خارگ جزیرے پر مزید حملوں کا عندیہ

صدر ٹرمپ نے کہا کہ خارگ جزیرے پر حملوں کے دوران اہم تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا اور ممکن ہے کہ آئندہ بھی وہاں محدود حملے کیے جائیں۔ ان کے بقول یہ حملے بعض اوقات صرف طاقت کے مظاہرے یا “تفریح” کے طور پر بھی کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ بعض وجوہات کی بنا پر انہوں نے جزیرے کے تیل کے بنیادی ڈھانچے کو مکمل طور پر تباہ کرنے کا حکم نہیں دیا، تاہم اگر حالات خراب ہوئے تو اس فیصلے پر دوبارہ غور کیا جا سکتا ہے۔

آبنائے ہرمز کے حوالے سے خدشات

صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ Strait of Hormuz میں ایران نے بارودی سرنگیں بچھائی ہیں یا نہیں، تاہم امریکا اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ آبنائے ہرمز سے تیل حاصل کرنے والے ممالک کو اس اہم بحری گزرگاہ کی سکیورٹی کو یقینی بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

عالمی تعاون کی ضرورت

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا ان ممالک کے ساتھ مل کر اس اہم سمندری راستے کے تحفظ کے لیے تعاون کرے گا کیونکہ عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کے لیے اس گزرگاہ کا محفوظ رہنا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری کسی ایک ملک کی نہیں بلکہ عالمی ٹیم ورک کے ذریعے پوری کی جانی چاہیے، اور امید ظاہر کی کہ موجودہ کشیدگی کے بعد دنیا دوبارہ امن اور استحکام کی طرف بڑھے گی۔

ایران سے ممکنہ مذاکرات کا اشارہ

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران تنازع ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے پر آمادہ ہے، تاہم ان کے مطابق اب تک تہران کی جانب سے پیش کی گئی شرائط قابل قبول نہیں ہیں۔

یاد رہے کہ ایک روز قبل بھی صدر ٹرمپ نے کہا تھا کہ ان کی ہدایت پر United States Central Command نے ایران کے فوجی اہداف اور خارگ جزیرے پر مشرق وسطیٰ کی تاریخ کے طاقتور ترین حملے کیے ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران یا کوئی اور فریق آبنائے ہرمز میں آزاد اور محفوظ جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرے گا تو امریکا فوری اور سخت ردعمل دے سکتا ہے۔

Related posts

سوئٹزرلینڈ نے جنگی مقصد کی امریکی پروازوں کو فضائی حدود استعمال کرنے سے روک دیا

ایران سے کشیدگی پر امریکا میں سیاسی طوفان، ٹرمپ کی جماعت کے اندر اختلافات گہرے ہوگئے

پاکستان اور سعودی عرب کا مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے مشترکہ سفارتی کوششیں تیز کرنے پر اتفاق