پروفیسر علی کو مسلمان ہونے پر نشانہ بنایا گیا: آل انڈیا ترنمول کانگریس پارٹی رکن پھٹ پڑیں

بھارتی لوک سبھا میں آل انڈیا ترنمول کانگریس پارٹی کی رکن ماہوا موئیترا نے کہا ہےکہ پروفیسر علی خان محمود آباد کو صرف مسلمان ہونے کی بنا پر نشانہ بنایاگیا ہے۔

8 مئی کو کی گئی ایک پوسٹ میں پروفیسر علی خان نے لکھا تھا کہ’میں بہت سے دائیں بازو کے مبصرین کو کرنل صوفیہ قریشی کی تعریف کرتے ہوئے دیکھ کر خوش ہوں لیکن شاید یہ لوگ اسی طرح ماب لنچنگ، گھروں کو مسمار کرنے اور بی جے پی کی منافرت سے متاثرہ افراد کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں تاکہ ان لوگوں کو انڈین شہری ہونے کے ناطے تحفظ دیا جائے‘۔

اس پوسٹ کے چند روز بعد اشتعال پھیلانے کے الزامات عائد کرتے ہوئے پروفیسر علی خان کو گرفتار کرلیا گیا تھا تاہم گزشتہ روز بھارتی سپریم کورٹ نے پروفیسر علی خان کو ضمانت پر رہا کردیا۔

 پروفیسر علی خان  کی رہائی کے بعد آل انڈیا ترنمول کانگریس پارٹی کی رکن ماہوا موئیترا نے کہا کہ پروفیسر علی خان کو صرف اس لیے نشانہ بنایا گیا ہے کہ وہ ایک مسلمان ہیں جب کہ کرنل صوفیہ قریشی کو دہشتگردوں کی بہن کہنے والا بی جے پی کا وجے شاہ آزاد گھوم رہا ہے۔

Related posts

تہران میں مبینہ روسی Mi-28 جنگی ہیلی کاپٹر کی پرواز؟ امریکی ڈیفنس ویب سائٹ کا دعویٰ، شواہد تاحال غیر مصدقہ

ایپسٹین فائلز: پاکستان براہِ راست نمایاں نہیں، عمران خان اور شاہ محمود قریشی کے نام سامنے آگئے

کھیل کو سیاست سے الگ رکھا جائے، پاک بھارت میچ کا بائیکاٹ ویک اپ کال ہے: ششی تھرور