وانا میں خطاب: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دوٹوک مؤقف — “پائیدار امن دہشت گردی کے خاتمے سے مشروط”

سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان پائیدار اور بامعنی امن اسی وقت ممکن ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی ہر قسم کی حمایت ترک کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ سرحد پار سے ہونے والی دراندازی اور پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے افغان سرزمین کا استعمال ناقابلِ قبول ہے، اور اس کے تدارک کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا۔

وانا کا دورہ اور شہدا کو خراجِ عقیدت

آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وانا، جنوبی وزیرستان کا دورہ کیا جہاں انہوں نے شہدا کی یادگار پر حاضری دی، پھول چڑھائے اور مادرِ وطن کے دفاع میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ شہدا کی قربانیاں پاکستان کی سلامتی، خودمختاری اور استقامت کی بنیاد ہیں، اور قوم ان قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔

مغربی سرحد کی سکیورٹی صورتحال پر بریفنگ

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف کو مغربی سرحد پر مجموعی سکیورٹی صورتحال اور جاری آپریشنز، خصوصاً آپریشن “غضب للحق”، پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ انہوں نے اگلے مورچوں کا دورہ کیا، تعینات افسران اور جوانوں سے ملاقات کی اور جاری جھڑپوں کے دوران ان کی پیشہ ورانہ مہارت، آپریشنل تیاری اور بلند حوصلے کو سراہا۔

فیلڈ مارشل نے کہا کہ افواجِ پاکستان ہر قسم کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ریاست دشمن عناصر—جنہیں انہوں نے “فتنہ خوارج” اور “فتنہ الہندوستان” قرار دیا—کی جانب سے افغان سرزمین کے استعمال کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔

افغان طالبان سے واضح مطالبہ

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے کہ سرحدی خطے کو دہشت گردی سے پاک کیا جائے۔ ان کے بقول، “دونوں جانب امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب افغان طالبان دہشت گردی اور دہشت گرد تنظیموں کی حمایت سے مکمل دستبردار ہوں اور اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دیں۔”

فارمیشنز کی جنگی تیاری پر اطمینان

آئی ایس پی آر کے مطابق آرمی چیف نے پاک افغان سرحد پر تعینات فارمیشنز کی جنگی تیاری، مربوط کارکردگی اور بلند حوصلے پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ افواجِ پاکستان مادرِ وطن کے دفاع کے لیے ہر سطح پر مستعد ہیں اور سرحدوں کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

پس منظر:
حالیہ مہینوں میں مغربی سرحد پر سکیورٹی چیلنجز میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ عسکری قیادت کی جانب سے یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سرحد پار دہشت گردی اور دراندازی کے واقعات پر پاکستان بارہا تشویش کا اظہار کرچکا ہے۔ دفاعی حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں دیرپا امن کے لیے دوطرفہ تعاون، مؤثر بارڈر مینجمنٹ اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ناگزیر ہے۔

Related posts

آپریشن “غضبُ للحق” پر ڈی جی آئی ایس پی آر کی بریفنگ: “افغان طالبان رجیم اور دہشتگردوں میں کوئی فرق نہیں

دہشتگردوں کے خلاف بلا رعایت کارروائیاں ہوں گی، مقام کی قید نہیں — آئی ایس پی آر کا دوٹوک اعلان

بنوں میں سکیورٹی فورسز پر فتنہ الخوارج کا حملہ، لیفٹیننٹ کرنل اور سپاہی شہید