‘یوٹیلیٹی اسٹورز سے کروڑوں افراد مستفید ہوتے تھے، بندش ہزاروں خاندانوں کے روزگار پر حملہ ہے’

پیپلز پارٹی کے رہنما اور سندھ کے سینئر وزیر  شرجیل انعام میمن نے وفاقی حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کی اچانک بندش پر شدید تحفظات کا اظہار  کیا ہے۔

وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر میں یوٹیلیٹی اسٹورز کے آپریشن بندکرنے کے فیصلے پر شرجیل میمن نے کہا کہ یہ ادارہ 55 برسوں سے کم آمدنی والے افراد کو سستی بنیادی اشیا فراہم کر رہا تھا۔

شرجیل میمن کا کہنا تھا 1971 میں ذوالفقار علی بھٹو نے غریب طبقے کو سبسڈی دینے کے لیے یوٹیلیٹی اسٹورز قائم کیے تھے، جہاں نجی شعبے کی رسائی نہیں وہاں بھی یوٹیلیٹی اسٹورز خدمات انجام دے رہے تھے۔

صوبائی وزیر نے مزید کہا کہ ملک کے 3 ہزار 800 اسٹورز سے ماہانہ تقریباً 2 کروڑ افراد مستفید ہوتے تھے، 12 ہزار ملازمین کی برطرفی ہزاروں خاندانوں کے روزگار پر حملہ ہے۔

Related posts

مظفرآباد یوم یکجہتی کشمیر

بسنت کی رونقیں عروج پر: لاہور میں 54 کروڑ سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت، پشاور کے یکہ توت بازار میں پتنگ سازی کا کاروبار تیز

لاہور میں بسنت کی رنگا رنگ تیاریاں عروج پر، 6 تا 8 فروری میلہ سجے گا — کھانوں، ہوٹلوں اور سیاحت کا کاروبار چمک اٹھا