پشاور: وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے بند کمروں سے نکل کر سیاستدانوں، عوام اور سیکیورٹی فورسز کے ساتھ مل کر فیصلے کرنا ہوں گے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں امن جرگے سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ
“ہماری کوشش امن کے لیے ہے، دہشتگردی کے ناسور کے خلاف آج کے جرگے سے پائیدار حل نکلے گا۔ امن تب قائم ہوگا جب دہشتگردی کا مکمل خاتمہ ہوگا۔
امن کے لیے مشترکہ پالیسی کی ضرورت
سہیل آفریدی نے کہا کہ دہشتگردی کے خاتمے کے لیے طویل المدتی پالیسی اپنانی ہوگی، جس میں سیاستدانوں، سیکیورٹی فورسز اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ
“سیاست ہر ایک کی اپنی ہے لیکن امن ہمارا مشترکہ مقصد ہے۔ جب بم پھٹتا ہے تو وہ یہ نہیں دیکھتا کہ مرنے والا پی ٹی آئی کا ہے یا پیپلز پارٹی کا۔ دہشتگردی کے خلاف عوام، سیاستدان اور سیکیورٹی فورسز سب نے قربانیاں دی ہیں۔
این ایف سی شیئر اور وفاق سے شکوہ
وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا کا این ایف سی شیئر 400 ارب روپے بنتا ہے جو صوبے کو نہیں مل رہا۔
انہوں نے کہا کہ
“اگر یہ حصہ دہشتگردی کے اثرات کے باعث ایک فیصد بھی ملتا ہے تو کسی کو اس پر سوال اٹھانے کا حق نہیں۔
پاک افغان مذاکرات خوش آئند قرار
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاک افغان مذاکرات کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ
“ہم جنگ نہیں، امن چاہتے ہیں۔ جنگ ہمیشہ آخری آپشن ہونا چاہیے۔”
انہوں نے کہا کہ ماضی میں بند کمروں میں کیے گئے فیصلے صوبے پر مسلط کیے گئے، لیکن ان سے دہشتگردی کا خاتمہ ممکن نہیں ہوا۔
“اب وقت ہے کہ وہ پالیسی بند کمروں سے نکل کر بنائی جائے۔ اگر تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر پالیسی بنائی گئی تو خیبر پختونخوا سے دہشتگردی کا ناسور ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا۔”