اسلام آباد: پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ان کی جماعت نے حکومت کی جانب سے پیش کی گئی 27ویں آئینی ترمیم میں صوبوں کے حقوق کے خاتمے سے متعلق تجویز کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ ملک کو درپیش معاشی بحران، دہشت گردی اور بیرونی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے میثاقِ جمہوریت کی تمام شقوں پر عمل درآمد ضروری ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان کو اب “ٹروتھ اینڈ ری کنسلی ایشن” کی سمت بڑھنا ہوگا تاکہ سیاسی استحکام پیدا ہو۔
چیئرمین پیپلزپارٹی نے واضح کیا کہ جب تک وہ پارٹی کے سربراہ ہیں، کوئی یہ توقع نہ رکھے کہ صوبائی خودمختاری یا آئینی تحفظ واپس لیا جائے گا۔
“جب تک میں چیئرمین ہوں، صوبوں کو ملے آئینی حقوق برقرار رہیں گے،”
بلاول بھٹو زرداری نے کہا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹیکس جمع کرنے کا اختیار صوبوں کو دیا جائے تاکہ وہ اپنے مالی اہداف خود حاصل کر سکیں۔
بلاول بھٹو نے خبردار کیا کہ 18ویں ترمیم کے ذریعے علیحدگی پسند سیاست کا دروازہ بند کیا گیا تھا، اس لیے وفاق کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو علیحدگی پسند قوتوں کو دوبارہ تقویت دیں۔
عدلیہ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے چیئرمین پیپلزپارٹی نے کہا کہ ججز کے تبادلے سے متعلق فیصلے جوڈیشل کمیشن آف پاکستان کرے گا، اور کمیشن کو متعلقہ جج کی رائے لینے کا اختیار بھی حاصل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا شکر گزار ہوں کہ اب کسی جج کو زبردستی ریٹائر نہیں کیا جائے گا۔
بلاول بھٹو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ چھبیسویں ترمیم کے موقع پر پی ٹی آئی نے ووٹ نہ دے کر بھی ان کا ساتھ دیا تھا، جبکہ مولانا فضل الرحمان نے بھی پی ٹی آئی کی منظوری سے ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو آئینی بینچ کا سربراہ نہ بنانے کا فیصلہ بھی پی ٹی آئی کے مطالبے پر کیا گیا تھا۔