اسلام آباد: قومی اسمبلی نے پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کے بلز کی منظوری دے دی۔ یہ بلز وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے ایوان میں پیش کیے، جنہیں ایوان نے اکثریتِ رائے سے منظور کر لیا، جبکہ اپوزیشن نے اس کی مخالفت کی۔
آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے
وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ نئی ترامیم کے تحت آرمی چیف اب چیف آف ڈیفنس فورسز بھی ہوں گے۔ اس عہدے کی مدتِ تقرری پانچ سال مقرر کی گئی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر دیا گیا ہے اور اب تمام دفاعی کمانڈز چیف آف ڈیفنس فورسز کے تحت ہوں گی۔
سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی منظور
قومی اسمبلی نے سپریم کورٹ پریکٹس اینڈ پروسیجر ترمیمی بل بھی کثرتِ رائے سے منظور کر لیا، جسے وزیرِ قانون اعظم نذیر تارڑ نے پیش کیا۔
کابینہ نے پہلے ہی ترامیم کی منظوری دی تھی
واضح رہے کہ ان ترامیم کی منظوری سے قبل وفاقی کابینہ پہلے ہی ان بلز کی منظوری دے چکی تھی۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پاکستان آرمی ایکٹ، پاکستان ایئر فورس ایکٹ اور پاکستان نیوی ایکٹ میں ترامیم کی منظوری دی گئی۔
ترامیم کا مقصد
اعلامیے میں کہا گیا کہ ان ترامیم کا مقصد 27ویں آئینی ترمیم کے بعد افواجِ پاکستان سے متعلق قوانین کو ہم آہنگ کرنا ہے۔
ترامیم کے تحت موجودہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کی ریٹائرمنٹ کے بعد یہ عہدہ مستقل طور پر ختم ہو جائے گا۔
نئے عہدے شامل
مزید برآں، ترمیم شدہ قوانین میں فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر فورس اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدے بھی شامل کیے گئے ہیں۔
دیگر فیصلے
وفاقی کابینہ نے اسی اجلاس میں فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ (پروسیجر اینڈ پریکٹس) ایکٹ 2025 کے مسودے کی بھی منظوری دی، جبکہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے 7 نومبر 2025 کے اجلاس میں کیے گئے فیصلوں کی توثیق بھی کر دی گئی۔