مظفرآباد: پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کے خلاف تحریکِ عدم اعتماد جمع کرا دی ہے۔ پارٹی قیادت نے مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا اور اراکینِ اسمبلی کو فوری طور پر مظفرآباد پہنچنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔
نیا وزیرِ اعظم کون ہوگا؟ پیپلز پارٹی کا فیصلہ سامنے آگیا
پیپلز پارٹی نے آزاد کشمیر کے نئے وزیرِ اعظم کے لیے فیصل راٹھور کو امیدوار نامزد کر دیا ہے۔
یہ اعلان راجا پرویز اشرف اور چوہدری یاسین نے اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
فیصل راٹھور اس وقت پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے سیکرٹری جنرل ہیں اور پارٹی ذرائع کے مطابق انہیں اراکین کی واضح حمایت حاصل ہے۔
تحریکِ عدم اعتماد — آئینی طریقہ کار
آزاد کشمیر کے آئین کے مطابق:
• عدم اعتماد کی تحریک جمع ہونے کے 3 سے 7 روز کے اندر قانون ساز اسمبلی کا اجلاس بلایا جائے گا۔
• اجلاس میں تحریک پر رائے شماری لازمی ہوگی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ تحریک عدم اعتماد کے لیے سادہ اکثریت یعنی 27 ووٹ درکار ہیں، جبکہ پیپلز پارٹی کا دعویٰ ہے کہ انہیں 40 سے زائد اراکین کی حمایت حاصل ہے، جو سادہ اکثریت سے کہیں زیادہ ہے۔
حکومتی ردعمل
ذرائع کے مطابق وزیراعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق نے تحریکِ عدم اعتماد کا مکمل قوت سے مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایوان میں اکثریت ثابت کریں گے۔
مسلم لیگ ن کا کردار
اہم پیش رفت یہ ہے کہ مسلم لیگ ن نے بھی تحریکِ عدم اعتماد میں پیپلز پارٹی کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے تبدیلی کے امکانات مزید بڑھ گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں ہونے والی آئینی ترمیم کے باعث عدم اعتماد کی تحریک کے جمع کرانے میں کچھ تاخیر ہوئی، تاہم اب تمام جماعتوں نے اپنی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی ہے۔
صورتحال کا خلاصہ
• تحریک عدم اعتماد جمع ✔️
• پیپلز پارٹی کا نیا امیدوار — فیصل راٹھور ✔️
• مسلم لیگ ن کی حمایت ✔️
• 27 ووٹ درکار — 40 سے زائد کا دعویٰ ✔️
• 3 سے 7 روز میں رائے شماری لازمی ✔️
آزاد کشمیر کی سیاست آئندہ چند روز میں بڑے فیصلوں کی منتظر ہے اور اسمبلی کا اجلاس اقتدار کے توازن کو تبدیل کر سکتا ہے۔