اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملکی ٹیکس نظام میں اصلاحات سے متعلق ہفتہ وار جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں ٹیرف اور ٹیکس اصلاحات کے معاشی اثرات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
ٹیرف اصلاحات نے حکومتی پالیسیوں کی کامیابی ثابت کردی: وزیراعظم
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ تازہ معاشی اعداد و شمار حکومتی معاشی اصلاحات کے درست سمت میں ہونے کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ:
ٹیرف اصلاحات کے نتیجے میں مثبت رجحانات سامنے آئے ہیں۔
ایف بی آر کو جدید، شفاف اور فعال ادارہ بنانے کے اقدامات درست ثابت ہو رہے ہیں۔
معاشی ترقی کی رفتار ہر گزرتے دن کے ساتھ بہتر ہو رہی ہے۔
ریونیو میں اضافہ — بریفنگ میں اہم انکشافات
اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ:
رواں سال کی ٹیرف اصلاحات کا ریونیو وصولی پر کوئی منفی اثر نہیں پڑا۔
درآمدات پر ڈیوٹی اور ٹیکس کی وصولی میں 25 فیصد اضافہ ہوا۔
یہ اضافہ اس وقت سامنے آیا جب قابل ڈیوٹی مصنوعات میں صرف 3.6 فیصد اضافہ ہوا۔
ڈیوٹی فری امپورٹس میں 41.5 فیصد اضافہ ہوا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ خام مال اور انٹرمیڈیٹ اشیا کی درآمد بڑھی ہے۔ یہ ملکی پیداواری سرگرمیوں میں اضافے کی علامت ہے۔
اصلاحات کا بنیادی مقصد: پیداواری لاگت میں کمی اور برآمدات میں اضافہ
بریفنگ میں بتایا گیا کہ:
ٹیرف میں کمی کا مقصد خام مال کی قیمت کم کرنا تھا تاکہ مینوفیکچرنگ اور برآمدات کو فروغ دیا جاسکے۔
نئی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آرہے ہیں، جن سے عالمی منڈی میں مقابلے کی صلاحیت بہتر ہوئی ہے۔
کسٹم اصلاحات اور شفافیت سے ایف بی آر کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔
وزیراعظم کی ہدایات
وزیراعظم شہباز شریف نے:
ٹیکس چوری روکنے،
تمباکو، ٹائلز اور دیگر بڑے شعبوں میں ٹیکس نظام کی خامیوں کے خاتمے،
کے لیے مؤثر انتظامی و ادارہ جاتی اقدامات کی ہدایت کی۔
انہوں نے ایف بی آر اور وزارت خزانہ کی ٹیم کو شاندار کارکردگی پر شاباش دیتے ہوئے کہا کہ:
“اصلاحات پر عملدرآمد کی رفتار مزید تیز کی جائے تاکہ پاکستان معاشی مشکلات سے نکل کر پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن ہو سکے۔”
اجلاس میں شرکاء
اجلاس میں وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی ڈاکٹر مصدق ملک، وزیرِ پٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر مملکت خزانہ اظہر بلال کیانی، چاروں صوبوں کے چیف سیکرٹریز، چیئرمین ایف بی آر اور دیگر حکومتی اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔