اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے وزیراعظم ہاؤس آمد پر اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم ابن الحسین کا پرتپاک استقبال کیا، جہاں دونوں رہنماؤں کے درمیان اہم ملاقات ہوئی۔
دوطرفہ تعلقات میں نئے باب کے آغاز پر اتفاق
ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور اردن کے تعلقات کو مزید گہرا کرنے کے عزم کا اظہار کیا اور خاص طور پر درج ذیل شعبوں میں تعاون بڑھانے کی ضرورت پر زور دیا:
اقتصادیات
تجارت
سرمایہ کاری
صحت
سائنس و ٹیکنالوجی
تعلیم
دفاع
دونوں ممالک نے اسٹریٹجک اور اقتصادی تعاون کو وسعت دینے اور علاقائی و عالمی فورمز پر مشترکہ مؤقف اپنانے پر اتفاق کیا۔
فلسطین اور غزہ کی صورتحال پر تفصیلی گفتگو
شاہ عبداللہ دوم نے غزہ میں جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی کوششوں میں اردن کے کردار کی پاکستان کی جانب سے مسلسل حمایت کو سراہا۔
دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ:
غزہ سے فلسطینیوں کی کسی بھی قسم کی جبری نقل مکانی ناقابلِ قبول ہے۔
جنگ کے بعد غزہ کے مستقبل کے حوالے سے پاکستان اور اردن کا اصولی مؤقف یکساں ہے۔
شرم الشیخ غزہ امن معاہدے کے سلسلے میں آٹھ عرب و اسلامی ممالک اور امریکہ کے ساتھ روابط مزید مضبوط کیے جائیں گے۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
وزیراعظم شہباز شریف نے شاہ عبداللہ دوم کو خطے کی صورت حال، بالخصوص افغانستان اور بھارت میں حالیہ پیش رفت سے آگاہ کیا۔ شاہ عبداللہ دوم نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا۔
مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ
دونوں ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں (MoUs) پر دستخط کیے گئے۔
یہ معاہدے درج ذیل شعبوں سے متعلق تھے:
میڈیا
ثقافت
تعلیم
تقریب میں دونوں رہنماؤں نے شرکت کی جبکہ ملاقات کے بعد وزیراعظم نے شاہ عبداللہ دوم اور ان کے وفد کے اعزاز میں عشائیہ بھی دیا۔
شرکائے اجلاس
ملاقات میں شریک اہم شخصیات میں شامل تھے:
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار
چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ
وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک
اعلیٰ سرکاری افسران
اردن کے شاہ عبداللہ دوم نے اپنے دورہ پاکستان کے دوران گرمجوش اور شاندار مہمان نوازی پر حکومت اور عوام کا شکریہ ادا کیا۔
یہ ملاقات پاکستان اور اردن کے درمیان دوطرفہ تعاون کو نئی جہت دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگی