اسلام آباد: چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر علی خان نے برطانوی جریدے دی اکانومسٹ میں شائع ہونے والے آرٹیکل کو ’’جھوٹ، شر انگیزی اور بدترین کردار کشی‘‘ قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ پارٹی اس کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی۔
“آرٹیکل کا مقصد صرف کردار کشی ہے” — بیرسٹر گوہر
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ آرٹیکل مکمل طور پر من گھڑت اور بے بنیاد الزامات پر مشتمل ہے۔
ان کا کہنا تھا:
“بشریٰ بی بی عمران خان کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے بہادری کے ساتھ جیل میں ہیں، اس نوعیت کے الزامات کا مقصد صرف اور صرف کردار کشی ہے۔”
“اس سے پہلے بھی عدت سے متعلق گھٹیا الزامات لگائے گئے جنہیں عدالت نے جھوٹ قرار دیا، یہ رپورٹ بھی ایسی ہی جھوٹی کہانی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ ایسے ہتھکنڈوں سے نہ بشریٰ بی بی کو توڑا جا سکتا ہے اور نہ ہی پارٹی کی قیادت دبائی جا سکتی ہے۔
قانونی کارروائی کا اعلان
چیئرمین پی ٹی آئی کے مطابق:
“اس وقت جبکہ بشریٰ بی بی جیل میں ہیں، اس قسم کا آرٹیکل سامنے آنا قابلِ مذمت ہے۔”
“ایسے آرٹیکل اسپانسرڈ ہوتے ہیں، ہم اس کے خلاف ہر فورم پر قانونی کارروائی کریں گے۔”
دی اکانومسٹ کی رپورٹ میں کیا کہا گیا؟
برطانوی جریدے نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ:
بشریٰ بی بی عمران خان کے ذاتی اور سیاسی دونوں فیصلوں پر اثر انداز ہوتی تھیں۔
سرکاری امور میں بھی عمران خان ان سے رہنمائی لیا کرتے تھے۔
ان کی آمد کے بعد بنی گالہ میں عجیب رسومات ادا ہونے لگیں، جن میں کالے بکرے یا مرغیوں کی قربانی اور دیگر روحانی عمل شامل تھے۔
پاکستان تحریک انصاف نے اس تمام رپورٹ کو من گھڑت، سیاسی پروپیگنڈا اور کردار کشی کا حصہ قرار دیا ہے۔