لاہور: وزیر اطلاعات و ثقافت پنجاب عظمیٰ بخاری نے بتایا ہے کہ صوبائی حکومت نے کالعدم تحریک لبیک پاکستان کے 23 ارب 40 کروڑ روپے مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں جبکہ تنظیم کے 92 بینک اکاؤنٹس بھی سیل کر دیے گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت کو فنانس فراہم کرنے والے 90 افراد کے خلاف مقدمات درج ہو چکے ہیں، جب کہ سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مواد پھیلانے پر مزید 31 کیسز بھی قائم کیے گئے ہیں۔
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ کارروائی کے دوران تنظیم سے جدید اسلحہ، بلٹ پروف جیکٹس اور شیلز کی بڑی تعداد برآمد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب میں امن و امان کے قیام کے لیے زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل جاری ہے۔
آئمہ کرام اور مدارس کی رجسٹریشن کے حوالے سے پیش رفت
وزیر اطلاعات کے مطابق صوبے میں 84 فیصد آئمہ کرام کی رجسٹریشن مکمل ہو چکی ہے اور چند روز میں یہ عمل 100 فیصد تک پہنچ جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ داخلہ پنجاب نے پانچ وفاق المدارس کو آن بورڈ کر لیا ہے، جس کے بعد بہت جلد صوبے بھر میں مدارس کی باضابطہ رجسٹریشن شروع کر دی جائے گی۔
وال چاکنگ پر مکمل پابندی
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ پنجاب میں وال چاکنگ پر مکمل پابندی عائد ہے اور خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
افغان مہاجرین کی واپسی اور سیکیورٹی اقدامات
انہوں نے بتایا کہ صرف تین ہفتوں میں پنجاب سے 6 ہزار 220 افغان مہاجرین کو واپس بھیجا گیا ہے۔ ان کے مطابق بہت کم افغان شہری اب پنجاب میں موجود ہیں، جبکہ جن افراد نے غیر قانونی افغان باشندوں کو پناہ دی، ان کے خلاف بھی کارروائیاں کی گئی ہیں۔
جرائم میں نمایاں کمی
وزیر اطلاعات کے مطابق جہلم، چکوال، اٹک، پاکپتن، خوشاب اور بہاولپور سمیت متعدد اضلاع میں ڈکیتی، چوری اور راہزنی کی وارداتوں میں 70 سے 90 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
خواتین کے خلاف جرائم کی نگرانی میں نئی ٹیکنالوجی کا استعمال
عظمیٰ بخاری نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے خواتین پر تشدد یا جرائم کے کیسز میں ڈرون سرویلنس کے استعمال کی منظوری دے دی ہے، جس سے ایسے کیسز کی نگرانی اور کارروائیوں میں بہتری آئے گی۔
صوبائی حکومت کے مطابق پنجاب میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے مؤثر اور سخت اقدامات مسلسل جاری رہیں گے۔