لاہور: جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ نعیم الرحمان نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو کسی بھی صورت غزہ میں فوج نہیں بھیجنی چاہیے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے کہا کہ پاکستان کو قائداعظم محمد علی جناح کی پالیسی پر قائم رہتے ہوئے اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے اور صرف آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت کا اعلان جاری رکھنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ غزہ میں غیر ملکی فوج بھیجنے کا کوئی جواز نہیں بنتا، “اگر کوئی فوج گئی تو پھر فلسطینی دھڑوں کو آپس میں لڑوا دیا جائے گا، جو کام اسرائیل کر رہا ہے وہ ہم کیوں کریں؟” انہوں نے کہا کہ حماس، فلسطینی اتھارٹی اور تمام متعلقہ گروہ اس بات پر متفق ہیں کہ غزہ میں کسی بیرونی فورس کی موجودگی قابلِ قبول نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات کرانے والے ممالک بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ غزہ میں بین الاقوامی فورس بھیجنا حالات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے، اسی لیے مذاکراتی مسودوں میں بھی اس تجویز کا ذکر شامل نہیں کیا گیا۔
گزشتہ روز اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ منصوبے کی حمایت میں قرارداد منظور کی تھی، جس کے حق میں 14 ووٹ آئے جبکہ کسی ملک نے مخالفت میں ووٹ نہیں ڈالا۔ روس اور چین نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔
دوسری جانب فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس نے سلامتی کونسل کی اس قرارداد اور اس کے تحت غزہ میں بین الاقوامی فورس کی تعیناتی کے منصوبے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ حماس کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی فورس کو کارروائیوں کا اختیار دینا بالآخر اسے اسرائیل کے حق میں فریق بنا دے گا اور اس سے فلسطینی عوام کے بنیادی سیاسی و انسانی حقوق متاثر ہوں گے۔
حماس نے کہا کہ مزاحمتی گروپوں کو غیر مسلح کرنے جیسی کسی بھی شق کا مطلب ہے کہ یہ فورس غیر جانبدار نہیں رہے گی، جو فلسطینی عوام کے مفاد کے خلاف ہے