لاہور: ایسٹرن اور ساوتھ ایسٹرن سمتوں سے چلنے والی ہوائیں بھارت سے آلودہ ہوا لاہور میں لارہی ہیں جن کی رفتار 2 سے 4 میل فی گھنٹہ ریکارڈ کی گئی ہے۔ نئی دہلی، لدھیانہ، پٹیالہ، چندی گڑھ اور بھٹنڈہ کی پوسٹ دیوالی سموگ مشرقی پنجاب میں داخل ہو رہی ہے جس کے باعث لاہور کا فضائی معیار شدید متاثر ہو رہا ہے۔
کم ہوا کی رفتار، نمی میں اضافہ اور جمودی حالات نے آلودگی کو فضا میں معلق کر رکھا ہے، تاہم حکومتی اقدامات کی بدولت مقامی آلودگی اب بھی کنٹرول میں ہے۔ اس کے باوجود ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ گوجرانوالہ، قصور، شیخوپورہ اور فیصل آباد میں بھی ہوا کا رخ بھارت کی طرف سے ہے جس کے باعث ان شہروں میں فضائی معیار مزید خراب ہونے کا امکان ہے۔
سموگ سسٹم کے باعث صبح اور شام کے اوقات میں آلودگی کی شدت بڑھنے کی پیشگوئی کی گئی ہے جبکہ جنوبی پنجاب—ملتان، بہاولپور اور ڈی جی خان—میں فضائی صورتحال نسبتاً بہتر رہے گی۔
حکام کے مطابق بھارتی سمت سے آنے والی ’’ٹرانس باؤنڈری پولیوشن‘‘ کی لمحہ بہ لمحہ مانیٹرنگ کی جا رہی ہے۔ ہوا کے نمونوں اور سیٹلائٹ ڈیٹا کے ذریعے سموگ کی شدت باقاعدگی سے ٹریس کی جارہی ہے۔ شہریوں کی صحت کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے تمام سرکاری محکمے ہائی الرٹ پر ہیں۔
سینئر صوبائی وزیر مریم اورنگزیب نے بتایا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی خصوصی ہدایت پر صوبے بھر میں انسداد سموگ فیلڈ آپریشنز کو مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ انڈسٹریل ایمیشن چیکنگ اور وہیکل اسموک ٹیسٹنگ کی رفتار دوگنی کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ کھلے ڈرینز اور دھوئیں کے ذرائع پر فوری کارروائیاں جاری ہیں جبکہ فصلوں کی باقیات جلانے کے خلاف خصوصی انٹیلی جنس آپریشن کئے جا رہے ہیں۔
ایئر مانیٹرنگ یونٹس کی تعداد بڑھا دی گئی ہے، موبائل لیبز فیلڈ میں کام کر رہی ہیں، جبکہ سموگ فورکاسٹنگ سینٹر 24/7 اپڈیٹس فراہم کر رہا ہے۔ ہاٹ اسپاٹس کیلئے فوری الرٹ سسٹم بھی مکمل فعال کر دیا گیا ہے۔ محکمہ فارسٹ اور پی ایچ اے نے بڑے پیمانے پر شجرکاری مہم تیز کر دی ہے اور آکسیجن کوریڈورز کی بحالی پر بھی کام جاری ہے۔ محکمہ ماحولیات نے بھٹوں، فیکٹریوں اور ورکشاپس کی چیکنگ سخت کر دی ہے۔
ہیلتھ ایڈوائزری:
— غیر ضروری باہر نکلنے سے گریز کریں اور ماسک کا استعمال لازمی اپنائیں۔
— صبح و شام سموگ کے اوقات میں بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو گھر سے باہر جانے سے پرہیز کی ہدایت۔
— آنکھوں، گلے یا سانس میں جلن کی صورت میں فوری ڈاکٹر سے رجوع کریں، گھروں کی کھڑکیاں بند رکھیں۔
عوام سے اپیل:
کچرا، پتے اور فضلہ نہ جلائیں، کیونکہ دھواں سموگ میں اضافہ کرتا ہے۔ غیر ضروری گاڑیوں کا استعمال کم کریں، کار پولنگ اختیار کریں اور پبلک ٹرانسپورٹ استعمال کریں۔ بھٹوں یا فیکٹریوں سے دھواں اٹھنے کی شکایات فوری طور پر ہیلپ لائن 1373 پر درج کرائیں۔
مریم اورنگزیب نے کہا کہ سموگ پر قابو پانے کے لئے عوامی تعاون ناگزیر ہے اور ہر شہری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔