ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبے کے مطالبے اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے عوامی رابطہ مہم اور عدالت کا اعلان کر دیا

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان نے نئے صوبے کے قیام اور بلدیاتی اداروں کی مضبوطی کے لیے عوامی رابطہ مہم چلانے اور عدالت جانے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ اگر ایوان اور عدالتیں انصاف فراہم نہیں کریں گی تو وہ سڑکوں پر جائیں گے اور عوام سے رابطہ کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی میں 17 سال کا قبضہ ختم ہونا چاہیے۔

خالد مقبول صدیقی نے کہا:
• پاکستان میں جاگیردارانہ جمہوریت ہے، صوبہ ایک انتظامی یونٹ ہوتا ہے اور یہ آبادی کے ساتھ بڑھنا چاہیے، یہ ایم کیو ایم کا مطالبہ نہیں بلکہ آئین کا تقاضہ ہے۔
• کراچی کے ماسٹر پلان کو کرپشن میں تبدیل کیا جا رہا ہے، آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتیں قائم ہونی چاہئیں اور عوام کو ان کے حقوق دیے جائیں۔
• ایوان میں ایک جماعت کے سوا تمام جماعتیں ایم کیو ایم کے ساتھ ہیں، اور کراچی کے مستقبل پر شب خون نہیں مارا جا سکتا۔
• ایم کیو ایم نے 26ویں ترمیم میں عوام کے آئینی حقوق کی ضمانت کے لیے شرط رکھی، جبکہ دوسری پارٹیاں وفاق کو بلیک میل کر رہی تھیں۔
• ایم کیو ایم کی خواہش ہے کہ 18ویں ترمیم پر مکمل عمل درآمد ہو اور سندھ میں دی جانے والی اختیارات کی تقسیم میں اصلاح کی جائے۔

چیئرمین ایم کیو ایم پاکستان نے زور دیا کہ کراچی کے شہری علاقوں کے مسائل کو ایوان میں بھی اٹھایا جائے گا اور قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا جائے گا۔

Related posts

پی ٹی آئی بانی سے ملاقات اور شوکت خانم اکاؤنٹ ڈی فریز کیس؛ عدالت میں وکیل پیش نہ ہوا، سماعت یکم دسمبر تک ملتوی

اسلام آباد: افغانستان سے دہشت گردی روکنے کا مطالبہ، چند گرفتاریاں کافی نہیں — اسحاق ڈار

اسلام آباد – نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بڑے پیمانے پر فراڈ کی روک تھام کیلئے نیب کا ’’ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر‘‘ نظام متعارف کرانے کی تجویز