اسلام آباد: وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا خطرہ اب بھی مکمل طور پر ٹلا نہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تناؤ کی فضا برقرار ہے۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ پراکسی وار کبھی ختم نہیں ہوئی، یہ دہائیوں سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جدید دور میں پراکسی وار ’’ماڈرن وارفیئر‘‘ کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے اور اس میں وقت کے ساتھ مزید شدت آئی ہے۔
“بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ کا خطرہ تھا”
وزیر دفاع نے بتایا کہ:
• “پراکسی وار 80 کی دہائی میں شروع ہوئی، لاہور اور راولپنڈی میں دھماکے ہوئے”
• “بھارت کے ساتھ ایک اور جنگ کا خطرہ تھا، مئی کی جنگ کے فوراً بعد امکان زیادہ تھا”
• “بھارت کے ساتھ جنگ کا خطرہ ابھی بھی موجود ہے، یہ خطرہ ٹلا نہیں ہے”
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ امریکا بھارت کے خلاف پاکستان کی فتح کی تصدیق کر رہا ہے۔
ان کے مطابق امریکی صدر نے مداخلت کر کے اس خطے میں جنگ روکنے میں کردار ادا کیا۔
پاکستان کی مئی میں فیصلہ کن برتری
خیال رہے کہ مئی میں ہونے والی جھڑپ میں:
• پاک فضائیہ نے رافیل سمیت بھارت کے 7 طیارے مار گرائے تھے
• بھارت کا جدید دفاعی نظام S-400 بھی تباہ ہوا تھا
• اس تصادم میں بھارت کو غیر معمولی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا تھا
وزیر دفاع کے مطابق بھارت کی جانب سے روایتی اور غیر روایتی خطرات موجود ہیں، لہٰذا پاکستان کو ہر وقت چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔