لاہور: امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے کہا ہے کہ ملک کا موجودہ نظام انصاف پر مبنی نہیں اور خواتین کو بے شمار سماجی، معاشی اور قانونی چیلنجز کا سامنا ہے۔ لاہور میں جماعت اسلامی کے اجتماعِ عام کے دوسرے روز خواتین کے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ملک میں تین کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، جو موجودہ نظام کی ناکامی کا واضح ثبوت ہے۔
حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ فرسودہ نظام ہمارے بچوں کو تعلیم، بچیوں کو تحفظ اور نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں ناکام ہو چکا ہے، اسے فوری طور پر بدلنے کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس ایکٹ میں اصلاحات ناگزیر ہیں کیونکہ موجودہ نظام انصاف کے تقاضے پورے نہیں کر رہا۔
انہوں نے کہا کہ معاشرے میں خواتین کو بے پناہ مسائل کا سامنا ہے، یہاں تک کہ کچھ بظاہر مذہبی گھرانوں میں بھی خواتین کے ساتھ ملازماؤں جیسا سلوک کیا جاتا ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ خاندان اور روایت کے نام پر خواتین کو وراثت میں ان کا شرعی حق نہیں دیا جاتا، جبکہ دین کے نام پر لڑائیاں کروانے والے خود خواتین کو بنیادی حقوق سے محروم رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جو لوگ خواتین کو وراثت سے محروم رکھتے ہیں وہ کسی سرکاری منصب کے اہل نہیں۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ ٹھیکیداری نظام کے تحت کام کرنے والی خواتین کو ان کے جائز حقوق نہیں ملتے اور پارلیمنٹ میں بیٹھے لوگ خواتین کے حقوق کے لیے آواز تک نہیں اٹھاتے۔
اس سے قبل اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے پنجاب میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2015 سے اب تک بلدیاتی انتخابات نہیں ہوئے، اور غیر جماعتی انتخابات کی تجویز دراصل ہر یوسی میں ہارس ٹریڈنگ کے دروازے کھولنے کے مترادف ہے۔