پشاور: سکیورٹی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ پشاور میں ایف سی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کرنے والے تینوں ہلاک دہشت گرد افغان شہری تھے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق تینوں حملہ آوروں نے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر منصوبہ بندی کے تحت کارروائی کی۔
آج صبح ایف سی ہیڈ کوارٹر پر 3 خودکش بمباروں نے حملہ کیا۔ ایک دہشت گرد نے مرکزی گیٹ پر خود کو دھماکے سے اڑا لیا جبکہ دو حملہ آور فائرنگ کرتے ہوئے عمارت کے اندر داخل ہوئے۔ ایف سی اہلکاروں نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے دونوں حملہ آوروں کو فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کردیا۔
3 اہلکار شہید، 10 افراد زخمی
خودکش دھماکے میں 3 ایف سی اہلکار شہید ہوئے جبکہ 3 اہلکاروں سمیت 10 افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اسپتال اور خیبر ٹیچنگ اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
اعلیٰ حکام کی مذمت
وزیراعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ محسن نقوی اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعلیٰ نے آئی جی خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرلی ہے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش مزید تیز کردی ہے۔