وزیراعظم کی ہدایت: جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کے منصوبوں میں شفافیت اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال یقینی بنایا جائے

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جناح میڈیکل کمپلیکس اور دانش یونیورسٹی کے ترقیاتی منصوبوں میں شفافیت، اعلیٰ معیار اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کو یقینی بنانے کی سخت ہدایات جاری کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تعمیراتی کام کے لیے صرف بہترین شہرت کی حامل کمپنیوں کا انتخاب کیا جائے جبکہ ہر ادائیگی تھرڈ پارٹی تصدیق کے بعد ہی کی جائے۔

وزیراعظم نے منگل کے روز منصوبہ جات کی سائیٹس کا دورہ کیا، جہاں انہیں تعمیراتی پیش رفت اور مجوزہ پلان پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر وزیر دفاع خواجہ آصف، وزیر پاور ڈویژن سردار اویس لغاری، وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ بھی موجود تھے۔

متاثرینِ اراضی کو شفاف ادائیگی کی ہدایت

وزیراعظم نے واضح کیا کہ منصوبوں کے لیے حاصل کی جانے والی زمین کے مالکان کو ادائیگی مکمل طور پر منصفانہ اور شفاف ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا:

“کسی کے ساتھ زیادتی نہیں ہونی چاہیے، کوئی حقدار محروم نہ رہے اور کوئی غیر مستحق فرد فائدہ نہ اٹھائے۔ گوگل میپنگ کے ذریعے بھی ہر چیز کی تصدیق کی جائے۔”

انہوں نے اس عمل میں کسی قسم کی سیاست کے شامل ہونے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہر قدم انصاف اور شفافیت کے اصولوں کے مطابق اٹھایا جائے۔

ڈیجیٹل اور فیس لیس سسٹم کا قیام

وزیراعظم نے ہدایت دی کہ دونوں منصوبوں کی مینجمنٹ اور انتظامی امور مکمل طور پر ڈیجیٹائزڈ، پیپر لیس اور فیس لیس ہونے چاہئیں، تاکہ عالمی معیار کے مطابق شفاف نظام قائم ہو سکے۔

ترقیاتی کام میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال

انہوں نے کہا کہ:
• تعمیرات میں جدید ٹیکنالوجی استعمال کی جائے
• سڑکوں کی تعمیر میں معیار کو اولین ترجیح دی جائے
• ہارٹیکلچر پلان بھی منصوبے کا حصہ ہو
• منصوبوں کی تکمیل وزیر پاور اور وزیر پٹرولیم کی براہ راست نگرانی میں ہو

سی ڈی اے کی بریفنگ

چیئرمین سی ڈی اے نے بتایا کہ:
• ایچ-16 سیکٹر میں یہ دونوں بڑے منصوبے مکمل کیے جا رہے ہیں
• جناح میڈیکل کمپلیکس کے لیے 600 کنال اور دانش یونیورسٹی کے لیے 800 کنال مختص ہیں
• کمرشل سیکٹر کے لیے 200 کنال اور اسلام آباد ماڈرن جیل کا منصوبہ بھی اسی زون میں شامل ہے
• سرینگر ہائی وے انٹرچینج کی تعمیر این ایچ اے کے ذمہ ہے، جبکہ واٹر سپلائی کا کام دو ماہ میں مکمل ہونے کی توقع ہے

مزید بتایا گیا کہ بجلی، گیس، انٹرنیٹ، ٹاورز اور گرڈ اسٹیشنز کی جگہ کا تعین کر لیا گیا ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ مقررہ مدت میں عالمی معیار کے مطابق منصوبے مکمل کیے جائیں، تاکہ وفاقی دارالحکومت میں جدید طبی و تعلیمی سہولیات کو فروغ دیا جا سکے.

Related posts

پی ٹی آئی بانی سے ملاقات اور شوکت خانم اکاؤنٹ ڈی فریز کیس؛ عدالت میں وکیل پیش نہ ہوا، سماعت یکم دسمبر تک ملتوی

اسلام آباد: افغانستان سے دہشت گردی روکنے کا مطالبہ، چند گرفتاریاں کافی نہیں — اسحاق ڈار

اسلام آباد – نجی ہاؤسنگ سوسائٹیز میں بڑے پیمانے پر فراڈ کی روک تھام کیلئے نیب کا ’’ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر‘‘ نظام متعارف کرانے کی تجویز