قومی احتساب بیورو (نیب) نے نجی ہاؤسنگ اور کواپریٹو سوسائٹیز میں اربوں روپے کے فراڈ اور بے ضابطگیوں کی روک تھام کیلئے ایک جدید “ڈیجیٹل ون کلک ڈسکلوژر” نظام متعارف کرانے کی تجویز پیش کی ہے۔ اس نظام کے ذریعے کوئی بھی شہری صرف ایک کلک پر ہاؤسنگ اسکیم کی قانونی حیثیت، اس کے منظور شدہ لے آؤٹ پلان اور کسی مخصوص پلاٹ کے وجود کی فوری تصدیق کر سکے گا۔
نیب راولپنڈی نے نجی ہاؤسنگ سیکٹر میں بڑھتے ہوئے فراڈ کے پیش نظر چار نکاتی اصلاحاتی پیکج تیار کیا ہے۔ ابتدائی طور پر ان اصلاحات کو اسلام آباد اور راولپنڈی میں نافذ کرنے پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں 90 ہزار سے زائد شہری جعلی یا نہ ہونے والے پلاٹس پر کھربوں روپے گنوا چکے ہیں۔
نیب کے مجوزہ چار نکاتی اصلاحاتی اقدامات
نیب نے وزارت ہاؤسنگ، سی ڈی اے اور آرڈی اے کے ساتھ شیئر کی گئی تجاویز میں درج ذیل اقدامات شامل کیے ہیں:
1۔ مرکزی آن لائن پورٹل
تمام ریگولیٹرز سے منظور شدہ لے آؤٹ پلان (LOPs) ایک ہی سرکاری پورٹل پر شائع کیے جائیں گے تاکہ عوام کسی بھی ہاؤسنگ اسکیم کی اصل حالت کی تصدیق خود کر سکیں۔
2۔ کیو آر یا بارکوڈ والے الاٹمنٹ لیٹر
ہر اصل پلاٹ کیلئے ایک محفوظ اور منفرد کیو آر یا بارکوڈ والا لیٹر جاری ہوگا جو سرکاری ڈیٹا بیس سے منسلک ہوگا، اس سے اوور سیلنگ کی روک تھام ہو سکے گی۔
3۔ لازمی ایسکرو اکاؤنٹ
ہر ہاؤسنگ منصوبے کیلئے ایک ایسکرو اکاؤنٹ بنایا جائے گا، جس کی نگرانی تیسرے فریق کے ذریعے کی جائے گی تاکہ خریداروں کا سرمایہ صرف ترقیاتی کاموں پر استعمال ہو۔
4۔ امینٹی پلاٹس کی فروخت کو قابلِ سزا جرم قرار دینا
عوامی سہولیات کیلئے مختص اراضی کی غیر قانونی فروخت کو فوجداری جرم قرار دے کر اس پر سخت سزائیں نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نیا نظام خریداروں کو ایک کلک پر مکمل معلومات فراہم کرے گا
ڈیجیٹل نظام کے تحت خریدار چند لمحوں میں یہ چیک کر سکیں گے کہ:
• پلاٹ سرکاری نقشے میں موجود ہے یا نہیں
• ہاؤسنگ اسکیم باضابطہ طور پر منظور شدہ ہے یا نہیں
• منصوبے کی موجودہ ترقیاتی صورتحال کیا ہے
ان تمام معلومات کیلئے ایک متحدہ سرکاری ویب سائٹ قائم کی جائے گی۔
’’یہ نظام عوام کو بااختیار بنا دے گا‘‘ – نیب
نیب کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ سسٹم لوگوں کو اپنی محنت کی کمائی محفوظ رکھنے میں مدد دے گا اور جعلساز ڈویلپرز کے فریب کو بے اثر کر دے گا۔ ان کے مطابق شفافیت اب صرف قوانین سے نہیں، بلکہ ٹیکنالوجی سے قائم ہوگی، جو ہر اس شہری کی پہنچ میں ہے جس کے پاس اسمارٹ فون موجود ہے۔
ڈی جی نیب وقار احمد چوہان نے اعتماد کا اظہار کیا کہ یہ اصلاحات لاکھوں متاثرہ شہریوں کی مشکلات کو مستقل طور پر کم کر دیں گی اور رئیل اسٹیٹ سیکٹر پر عوام کا اعتماد بحال کریں گی۔ ان کے مطابق نیب نے سی ڈی اے کو ایسکرو سسٹم کے نفاذ کیلئے 15 نکاتی طریقہ کار بھی فراہم کیا ہے۔
پاکستان کی تاریخ کے بڑے ہاؤسنگ اسکینڈلز میں سے ایک
اسلام آباد اور راولپنڈی کی نجی ہاؤسنگ اسکیموں میں ہونے والے فراڈ کا حجم حیران کن ہے:
• منظور شدہ نقشوں سے ہٹ کر 91 ہزار اضافی پلاٹ فروخت کیے گئے
• 80 ہزار کنال غیر موجود رقبہ بیچا گیا
• سیکڑوں ارب روپے کا مجموعی مالی نقصان ہوا
ماہرین کے مطابق یہ جڑواں شہروں کا سب سے بڑا لینڈ اسکینڈل ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو شدید مالی نقصان پہنچایا۔
نیب کی جانب سے پیش کردہ یہ تجاویز حکومت کو باضابطہ طور پر ارسال کر دی گئی ہیں، اور توقع ہے کہ انہیں قومی پالیسی کا حصہ بنایا جائے گا تاکہ مستقبل میں ایسے فراڈ کا مستقل خاتمہ ممکن ہو سکے.