لاہور: پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف نے گوجرانوالہ کے دیرینہ مطالبے کو پورا کرتے ہوئے گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کی باضابطہ منظوری دے دی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور میں خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس کی صدارت نواز شریف نے کی، جبکہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف اور وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے خصوصی طور پر شرکت کی۔
گوجرانوالہ کے عوام کا حق تھا — نواز شریف
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا:
“ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ گوجرانوالہ کے لوگوں کا حق ہے، جو انہیں بہت پہلے مل جانا چاہیے تھا۔ گوجرانوالہ کی ترقی اور عوام کی سہولت پر بے حد خوشی ہے۔”
پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ — 30 کلومیٹر سے زائد طویل روٹ
اجلاس میں صوبائی وزیر ٹرانسپورٹ بلال اکبر نے پراجیکٹ پر تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ:
• گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ ایمن آباد سے گھکھڑ تک 30 کلومیٹر سے زائد حصے پر مشتمل ہوگا۔
• یہ شہر کا تاریخی ٹرانسپورٹ پراجیکٹ ہوگا جس سے شہریوں کو بین الاقوامی معیار کی سفری سہولیات میسر آئیں گی۔
• پراجیکٹ سے روزانہ 51 ہزار سے زائد مسافر سفر کر سکیں گے۔
• منصوبے کے تحت 40 جدید الیکٹرک آرٹیکولیٹڈ بسیں چلائی جائیں گی، جو ماحول دوست اور کم اخراج والی جدید ٹیکنالوجی سے لیس ہوں گی۔
تاریخی سہولت — گوجرانوالہ کی ٹرانسپورٹ میں نیا دور
گوجرانوالہ ماس ٹرانزٹ پراجیکٹ کو شہر کی ٹرانسپورٹیشن ہسٹری میں انقلابی قدم قرار دیا جا رہا ہے، جو ٹریفک کے دباؤ میں کمی، جدید سفری سہولت اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کا باعث بنے گا۔
منصوبے کی منظوری کے بعد گوجرانوالہ کے عوام میں خوشی کی لہر دیکھی جا رہی ہے اور اسے مسلم لیگ (ن) حکومت کا ایک اور بڑا عوامی اقدام قرار دیا جا رہا ہے.