لاہور: صدر پاکستان مسلم لیگ (ق) اور سابق وزیراعظم چوہدری شجاعت حسین سے چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ طاہر محمود اشرفی نے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین بھی موجود تھے۔
حافظ طاہر محمود اشرفی نے چوہدری شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور کہا کہ چوہدری شجاعت حسین نے ملک و قوم کے لیے لازوال خدمات انجام دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ختمِ نبوت اور دینی خدمات کے حوالے سے چوہدری شجاعت حسین اور ان کے خاندان کا کردار ناقابلِ فراموش ہے اور کوئی بڑا دینی کام ان کے خاندان کی شمولیت کے بغیر مکمل نہیں ہوا۔
چیئرمین پاکستان علماء کونسل نے کہا کہ جب چوہدری سالک حسین وفاقی وزیر مذہبی امور تھے تو حج کے نہایت شفاف اور مثالی انتظامات کیے گئے، جس کے باعث عازمین حج کو ایک روپے کی رشوت بھی نہیں دینا پڑی۔ انہوں نے چوہدری سالک حسین اور چوہدری شافع حسین کی عوامی خدمات کو بھی سراہا۔
اس موقع پر چوہدری شجاعت حسین نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی بہادر مسلح افواج ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی بھرپور حفاظت کر رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان نے مئی کی جنگ میں بھارت کو ایسا سبق سکھایا جسے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ مسلح افواج دہشت گردی کے خلاف بھی بھرپور جدوجہد کر رہی ہیں۔
چوہدری شجاعت حسین نے کہا کہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے امن و امان کا قیام ناگزیر ہے، اور افواج پاکستان و سیکیورٹی ادارے امن کی فضا برقرار رکھنے کے لیے لازوال قربانیاں دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پوری قوم قیامِ امن کی کوششوں میں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے۔
صوبائی وزیر اوقاف و مذہبی امور چوہدری شافع حسین نے ملاقات کے دوران محکمہ اوقاف میں بہتری کے لیے اٹھائے گئے اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ اوقاف کے امور کو ڈیجیٹائز کیا جا رہا ہے جبکہ مزارات اور مساجد کی تزئین و آرائش کا جامع پروگرام جاری ہے۔ داتا دربار کے توسیعی منصوبے پر بھی تیز رفتاری سے کام ہو رہا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ علماء کرام کی مشاورت سے قرآن بورڈ اور علماء بورڈ تشکیل دیا جا رہا ہے جبکہ قرآن کمپلیکس کی شاندار عمارت کو دینی علوم کی ترویج کے لیے مؤثر انداز میں استعمال میں لایا جائے گا۔ اس کے علاوہ محکمہ اوقاف کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرانے کے لیے بھی بھرپور مہم جاری ہے۔
چوہدری شافع حسین نے واضح کیا کہ محکمہ اوقاف کو ہر قسم کی کرپشن سے پاک کرنے کے لیے حکومت پُرعزم ہے اور اس سلسلے میں زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل کیا جا رہا ہے۔