اسلام آباد: بانی پاکستان تحریکِ انصاف عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے توشہ خانہ ٹو کیس میں سنائی گئی سزاؤں کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیلیں دائر کر دی ہیں۔
بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی جانب سے دو الگ الگ اپیلیں دائر کی گئی ہیں، جن میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ استغاثہ ان کے خلاف الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔ اپیلوں میں کہا گیا ہے کہ بلغاری سیٹ توشہ خانہ قواعد کے مطابق سابق حکمران جوڑے نے قانونی طور پر اپنے پاس رکھا۔
درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ صہیب عباسی کو غیر قانونی طور پر سلطانی گواہ بنایا گیا جبکہ عدالت نے وعدہ معاف گواہ کے بیان پر انحصار کیا، جو قانوناً درست نہیں تھا۔
اپیلوں میں مزید مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسپیشل سینٹرل کورٹ کو اس کیس کی سماعت کا اختیار ہی حاصل نہیں تھا، جبکہ ایک ہی جرم میں متعدد بار سزا دینا بھی قانون کے منافی ہے۔ اپیلوں کے مطابق مقدمہ بغیر کسی مؤثر تفتیش کے قائم کیا گیا اور درخواست گزاروں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
عمران خان اور بشریٰ بی بی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ توشہ خانہ ٹو کیس میں سنایا گیا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔
اسلام آباد ہائی کورٹ میں بانی پی ٹی آئی کی اپیل پر ڈائری نمبر 24560 جبکہ بشریٰ بی بی کی اپیل پر ڈائری نمبر 24561 درج کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ اسپیشل جج سینٹرل نے توشہ خانہ ٹو کیس میں بانی پی ٹی آئی عمران خان اور بشریٰ بی بی کو مجموعی طور پر 17، 17 سال قید کی سزا سنائی تھی، جسے اب ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔