کراچی ایک بڑے سانحے سے بال بال بچ گیا، جہاں سکیورٹی اداروں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے شہر میں دہشت گردی کے ایک خطرناک منصوبے کو ناکام بنا دیا۔ سکیورٹی حکام کے مطابق بلدیہ رئیس گوٹھ کے علاقے میں کی گئی خفیہ معلومات پر مبنی کارروائی کے دوران 4 ٹن سے زائد دھماکا خیز مواد برآمد کر لیا گیا۔
بلدیہ رئیس گوٹھ میں بڑی کارروائی
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی زیرِ حراست دہشت گردوں کی نشاندہی پر عمل میں لائی گئی، جس کے دوران ایک منی ٹرک، 60 ڈرم اور 5 گیس سلینڈرز تحویل میں لے لیے گئے۔ برآمد ہونے والا دھماکا خیز مواد انتہائی مہلک نوعیت کا تھا، جسے شہر میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے کے لیے استعمال کیا جانا تھا۔
آئی آئی چندریگر روڈ کو نشانہ بنانے کا منصوبہ
حکام کے مطابق دہشت گردوں نے منی ٹرک میں بھاری مقدار میں بارودی مواد بھر کر کراچی کے حساس اور مصروف ترین تجارتی علاقے آئی آئی چندریگر روڈ پر حملے کا منصوبہ بنایا تھا۔ اس مقام پر کسی بھی ممکنہ دھماکے کی صورت میں جانی و مالی نقصان کے خدشات انتہائی سنگین تھے۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی بروقت کارروائی
برآمد شدہ بارودی مواد کو فوری طور پر بم ڈسپوزل اسکواڈ کے حوالے کیا گیا، جس نے انتہائی احتیاط کے ساتھ دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنا دیا۔ حکام کے مطابق یہ مواد ڈرموں میں بھر کر شہر منتقل کیا گیا تھا، جس سے واضح ہوتا ہے کہ دہشت گرد ایک منظم اور بڑے حملے کی تیاری کر رہے تھے۔
تحقیقات کا دائرہ وسیع
سکیورٹی اداروں نے واقعے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن کیا، جبکہ گرفتار دہشت گردوں سے مزید تفتیش جاری ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک سے جڑے دیگر سہولت کاروں اور ممکنہ ٹھکانوں کا سراغ لگانے کے لیے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے۔
شہریوں کے لیے اطمینان کی خبر
سکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ایسے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا۔ بروقت کارروائی کے باعث کراچی ایک بڑی تباہی سے محفوظ رہا، جس پر سکیورٹی اداروں کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مستعدی قابلِ تحسین ہے۔