واہگہ (پاکستان) – پاکستانی شہری ناصر حسین سے پسند کی شادی کرنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور کو واہگہ بارڈر پر بھارت واپس بھیجنے کے لیے پہنچا دیا گیا ہے۔ رینجرز ذرائع کے مطابق خاتون کو واہگہ بارڈر پر پریڈ کے بعد بھارتی حکام کے حوالے کیا جائے گا۔
خاتون کی پاکستان آمد اور ویزے کی مدت
سربجیت کور 4 نومبر کو سکھ یاتریوں کے جتھے کے ہمراہ پاکستان آئی تھیں۔ ان کا ویزہ 13 نومبر تک تھا، تاہم مقررہ مدت کے بعد وہ واپس بھارت نہیں گئیں۔ اس دوران سربجیت نے اسلام قبول کر کے اپنا نام نور فاطمہ رکھ لیا تھا۔
پسند کی شادی اور اسلامی نام اختیار کرنا
خاتون نے پاکستان میں پاکستانی شہری ناصر حسین سے اپنی پسند کی شادی کی تھی۔ اسلام قبول کرنے کے بعد سربجیت کور نے اپنا نام نور فاطمہ رکھا اور مذہبی و ثقافتی تبدیلی کے بعد پاکستان میں قیام کیا۔
آن لائن ملاقات اور تعلقات کی شروعات
سربجیت کور اور ناصر حسین کے درمیان تعلقات کی شروعات 2016 میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس آن لائن رابطے کے بعد دونوں نے اپنے رشتے کو رسمی شکل دینے کا فیصلہ کیا اور شادی کے بندھن میں بندھ گئے۔
واہگہ بارڈر پر حوالگی کا عمل
رینجرز نے بتایا کہ سربجیت کور کو واہگہ بارڈر پر پہنچا کر بھارتی حکام کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق اس معاملے میں کسی قسم کی قانونی کارروائی کے بعد خاتون کو واپس بھارت بھیجا جا رہا ہے۔
سماجی اور قانونی پہلو
ماہرین کے مطابق ایسے کیسز میں ویزا کی میعاد ختم ہونے کے بعد واپس بھیجنا بین الاقوامی قوانین کے مطابق ضروری ہوتا ہے۔ اس واقعے نے سوشل میڈیا اور عوام میں دلچسپی اور بحث کو جنم دیا، خاص طور پر اس بات پر کہ پسند کی شادی اور مذہبی تبدیلی کے بعد انسانی حقوق اور قانونی عمل کیسے مربوط کیے جائیں۔