اسلام آباد: عالمی شہرت یافتہ معاشی و سماجی تحقیقی ادارے ایپسوس نے سال 2026 سے متعلق پاکستانی عوام کی توقعات پر مبنی اپنی تازہ سروے رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں ملک کے سیاسی، معاشی اور سماجی رجحانات کے بارے میں اہم انکشافات سامنے آئے ہیں۔
سروے کے مطابق پاکستانی عوام کی بڑی اکثریت مستقبل کے بارے میں مثبت سوچ رکھتی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 86 فیصد پاکستانی 2026 کے حوالے سے پُرامید ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مشکلات کے باوجود عوام مستقبل میں بہتری کی امید رکھتے ہیں۔
سیاسی صورتحال کے حوالے سے سروے میں انکشاف کیا گیا کہ 63 فیصد پاکستانیوں کو توقع ہے کہ 2026 میں سیاسی تسلسل برقرار رہے گا، جسے سیاسی عدم استحکام سے تنگ عوام کے لیے ایک اہم امید قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم ایک قابلِ توجہ پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ 58 فیصد افراد کا خیال ہے کہ بانی پاکستان تحریکِ انصاف 2026 بھی جیل میں ہوں گے، جو ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے تسلسل کی جانب اشارہ کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی اور سماجی رویوں پر بات کی جائے تو سروے میں واضح تبدیلی کے آثار نظر آتے ہیں۔ 84 فیصد پاکستانیوں نے آن لائن ملاقاتوں کو آمنے سامنے میل ملاقات پر ترجیح دینے کا عندیہ دیا، جو ڈیجیٹل طرزِ زندگی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ اس کے برعکس، 49 فیصد افراد نے 2026 میں سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی کی توقع ظاہر کی، جسے ڈیجیٹل تھکن اور ذہنی صحت سے جڑے خدشات سے جوڑا جا رہا ہے۔
خواتین کے کردار کے حوالے سے سروے میں حوصلہ افزا نتائج سامنے آئے، جہاں 70 فیصد پاکستانیوں نے قیادت میں خواتین کی نمائندگی بڑھنے کی امید ظاہر کی۔ ماہرین کے مطابق یہ رجحان معاشرتی سوچ میں مثبت تبدیلی کا مظہر ہے۔
ذاتی اہداف اور زندگی کے منصوبوں کے حوالے سے بھی پاکستانی عوام زیادہ سنجیدہ دکھائی دی۔ رپورٹ کے مطابق 75 فیصد پاکستانیوں نے 2026 کے لیے کوئی نہ کوئی عزم یا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ 2025 میں یہ شرح صرف 50 فیصد تھی۔ مزید یہ کہ گزشتہ سال عزم کرنے والوں میں سے 60 فیصد نے اپنے اہداف حاصل کرنے کا دعویٰ کیا۔
2026 کے لیے سب سے نمایاں اہداف میں:
• 43 فیصد پاکستانیوں نے کیریئر بنانے
• 34 فیصد نے مالی اہداف حاصل کرنے
کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔
کھیلوں کے میدان میں بھی عوام پرامید نظر آئے، جہاں 59 فیصد پاکستانیوں کو توقع ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم 2026 میں بہتر کارکردگی دکھائے گی۔
ماہرین کے مطابق ایپسوس کی یہ رپورٹ نہ صرف عوامی سوچ کی عکاسی کرتی ہے بلکہ پالیسی سازوں، سیاسی قیادت اور نجی شعبے کے لیے بھی ایک اہم اشارہ ہے کہ عوام کس سمت میں بہتری دیکھنا چاہتے ہیں۔