لاہور: وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے کہا ہے کہ آئمہ کرام معاشرے کے ستون، دین کے علمبردار اور عوام کے لیے رہنمائی کا مضبوط ذریعہ ہیں، اس لیے ان کی معاشی فلاح و بہبود حکومت کی اہم ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب‘‘ پراجیکٹ آئمہ کرام کی عزت و وقار کے ساتھ معاونت کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
وہ اعزازیہ کارڈ کے اجرا کی تقریب سے خطاب کر رہی تھیں۔ اس موقع پر صوبائی وزیر خواجہ سلمان رفیق، ہوم سیکرٹری احمد جاوید قاضی اور متعلقہ محکموں کی ٹیم بھی موجود تھی۔ وزیراعلیٰ نے پراجیکٹ کے اجرا پر پوری ٹیم کو مبارکباد دی۔
آئمہ کرام کا معاشرے میں مرکزی کردار
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ہر خوشی اور غم کے موقع پر علماء کرام اور آئمہ مساجد سے رہنمائی لی جاتی ہے اور معاشرے میں اکثر تنازعات کے حل کے لیے بھی امام مسجد کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ کرام دین کا روشن چہرہ ہیں، اس کے باوجود ان کے لیے چندہ جمع کرنا افسوسناک ہے۔
انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ 2026ء میں بھی کئی مساجد کے امام صاحبان کو محض پانچ سے دس ہزار روپے پر گزارا کرنا پڑتا ہے، حالانکہ عام انسان کی طرح انہیں بھی روزمرہ اخراجات، بچوں کی تعلیم اور علاج جیسے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
اعزازیہ میں اضافہ، نواز شریف کی ہدایت
وزیراعلیٰ نے بتایا کہ ابتدا میں آئمہ کرام کے لیے 15 ہزار روپے اعزازیہ تجویز کیا گیا، تاہم سابق وزیراعظم نواز شریف نے ہدایت دی کہ یہ رقم کم از کم 25 ہزار روپے ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تھوڑی سی رقم سے آئمہ کرام کی زندگی میں آسودگی آ سکتی ہے تو اس سے بڑی خوشی کوئی نہیں۔
صوبہ بھر سے مثبت ردعمل
مریم نواز شریف نے بتایا کہ پنجاب میں تقریباً 80 ہزار مساجد ہیں، جن میں سے 70 ہزار سے زائد مساجد کی جانب سے اعزازیہ پروگرام پر مثبت ردعمل موصول ہوا ہے، جبکہ رجسٹریشن کا عمل تاحال جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ماہ ادائیگی پے آرڈر کے ذریعے کی جائے گی جبکہ آئندہ ماہ سے اعزازیہ کارڈ کے ذریعے ڈیجیٹل ادائیگی کا مستقل نظام نافذ کیا جائے گا، جس کا مقصد شفافیت اور سہولت ہے۔
امن، رواداری اور مذہبی ہم آہنگی پر زور
وزیراعلیٰ نے کہا کہ پاکستان اسلام کے نام پر قائم ہوا اور اسلامی تعلیمات یہی سکھاتی ہیں کہ اقلیتیں بے خوف ہو کر زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر کسی غیر مسلم کے ساتھ زیادتی کی جائے تو قیامت کے دن حضور ﷺ خود اس کے وکیل ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی مذہب کو برا کہنا یا نفرت پھیلانا اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے۔ معاشرے کو امن کا گہوارہ بنانے کے لیے مذہبی منافرت، تقسیم اور فتنہ کو روکنا علماء کرام کی اہم ذمہ داری ہے۔
فتنہ و فساد کے خلاف ریاست کا مؤقف
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ بعض عناصر مذہب کے نام پر فتنہ پھیلا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے جوان شہید ہوئے، سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچا اور لوگوں کا روزگار متاثر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست اپنے شہداء کے خون کا حساب لے گی اور ملک کی سلامتی کے ساتھ کسی کو کھیلنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
انہوں نے واضح کیا کہ پنجاب میں ڈالا کلچر، خواتین اور بچوں کی بے حرمتی، دن دیہاڑے قتل اور مافیا کے خلاف سخت اقدامات کیے گئے ہیں اور کسی فتنے کو پنپنے نہیں دیا جائے گا۔
آئمہ کرام سے معاشرتی اصلاح میں کردار کی اپیل
وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت ہر جگہ نہیں پہنچ سکتی، لیکن امام مسجد کی آواز ہر جگہ پہنچتی ہے۔ انہوں نے آئمہ کرام سے اپیل کی کہ وہ لوگوں کو نشہ، جرائم، ناجائز قبضوں سے دور رہنے، قانون کے احترام، ٹریفک قوانین کی پابندی اور انسانی جان کی قدر کا درس دیں۔
انہوں نے کہا کہ ملک و قوم کی خدمت اور حفاظت صرف حکومت کی نہیں بلکہ سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ آئمہ کرام لوگوں کو دین کی اصل تعلیمات کی طرف لاتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح ایک دینی فریضہ ہے۔
اختتامیہ
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ ’’اعزازیہ کارڈ برائے امام صاحب‘‘ ایک آغاز ہے اور حکومت چاہتی ہے کہ آئمہ کرام کی خدمت میں مزید اضافہ کیا جائے، تاکہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیا جا سکے جس پر سب کو فخر ہو۔