حکمران کی قوتِ باطلہ کے مقابل کھڑی ہونے والی آواز ہی حق کی آواز ہوگی: مولانا فضل الرحمن

لاہور: جامعہ اشرفیہ لاہور میں منعقدہ دستار بندی کی عظیم الشان تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سربراہ جمعیت علمائے اسلام مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ جب حکمران کی قوتِ باطلہ حرکت میں آتی ہے تو معاشرے میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں، اور اس کے مقابلے میں جو آواز کھڑی ہوتی ہے وہی حق کی آواز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام اعتدال کا مذہب ہے، اگر اعتدال نہ ہو تو دنیا میں افراط و تفریط جنم لیتی ہے۔

تقریب میں صدر وفاق المدارس العربیہ مفتی محمد تقی عثمانی، ناظم اعلیٰ وفاق المدارس قاری محمد حنیف جالندھری، شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مولانا محمد یوسف خان، مولانا محمد امجد خان اور دیگر جید علماء کرام نے بھی خطاب کیا، جبکہ صدارت مہتمم جامعہ اشرفیہ مولانا قاری ارشد عبید نے کی۔

مولانا فضل الرحمن نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضور نبی کریم ﷺ معلم بھی ہیں اور مربی بھی، تعلیم و تربیت نبوت کا بنیادی حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ دینی مدارس میں ادب کی ایسی تعلیم دی جاتی ہے جو دنیا کی کسی اور دانشگاہ میں نظر نہیں آتی۔ افسوس کا مقام ہے کہ آج نوجوان نسل کو اپنے بزرگوں اور اسلاف سے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ دین کی بقاء آسائشوں میں نہیں بلکہ آزمائشوں سے گزرنے میں ہے، اور حق کا راستہ ہمیشہ قربانی مانگتا ہے۔

صدر وفاق المدارس العربیہ مفتی محمد تقی عثمانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا امتیاز اعتدال ہے۔ دعا ہے کہ جامعہ اشرفیہ اپنی روایات کے مطابق علم و عرفان کی روشنی پھیلاتا رہے۔ انہوں نے کہا کہ اعتدال کا تقاضا ہے کہ اتفاق خوشامد اور اختلاف دشمنی میں تبدیل نہ ہو۔ دین خیر خواہی کا نام ہے، جو کبھی تعریف اور کبھی تنقید کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

مفتی محمد تقی عثمانی نے کہا کہ آج تعلیم کا مقصد صرف پیسہ کمانا بنا دیا گیا ہے، حالانکہ تعلیم کا اصل مقصد اچھا انسان بنانا ہے۔ جب تعلیم کو صرف کمائی کا ذریعہ سمجھا جائے تو پھر اقدار ختم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے دستارِ فضیلت کو ایک عظیم امانت اور بھاری ذمہ داری قرار دیا۔

ناظم اعلیٰ وفاق المدارس قاری محمد حنیف جالندھری نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کا اور ان کے خاندان کا جامعہ اشرفیہ کے اکابر کے ساتھ تین سے چار نسلوں پر محیط گہرا دینی تعلق ہے، جو آئندہ بھی قائم رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آج مدارس کو خانقاہ بنانے کی ضرورت ہے تاکہ طلبہ کی دینی و روحانی تربیت ہو سکے اور وہ اکابر کے مشن کو آگے بڑھا سکیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر سے طلبہ دینی تعلیم کے لیے پاکستان کے مدارس کا رخ کرتے ہیں۔

شیخ الحدیث جامعہ اشرفیہ مولانا محمد یوسف خان نے کہا کہ نبوت کے مقاصد کی تکمیل علماء کرام کی ذمہ داری ہے۔ مولانا فضل الرحیم اشرفی مرحوم نے پوری زندگی اتحادِ امت اور ان مقاصد کے لیے صرف کی اور علماء کو ضابطہ اخلاق پر متحد کیا۔

تقریب سے مولانا محمد امجد خان، مولانا زبیر حسن اشرفی، حافظ اسعد عبید، مولانا احمد عمر، مفتی شاہد عبید، مفتی احمد علی، حافظ سعد اسعد، حافظ زاہد علی ملک، مولانا زاہد محمود قاسمی، مولانا مسعود قاسمی، مفتی محمد حسن سمیت دیگر علماء نے بھی خطاب کیا۔ تقریب میں ملک بھر سے علماء، طلبہ اور معزز شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

Related posts

جنید صفدر ایک بار پھر رشتۂ ازدواج میں منسلک ہونے کو تیار، شادی کی تقریبات جنوری کے وسط میں متوقع

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت پاکستان ریلویز کی کارکردگی مزید مؤثر بنانے کے لیے نجی شعبے کے ماہرین سے مشاورتی اجلاس

ورلڈ لبرٹی فنانشل کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات پاکستان میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کی جدت کے لیے مفاہمتی یادداشت پر دستخط