لاہور: جمیعت علماء اسلام (جے یو آئی) پنجاب کے زیر اہتمام آج منعقدہ ڈیجیٹل میڈیا کنونشن سے خطاب میں مولانا فضل الرحمن نے میڈیا، جمہوریت، عالمی سیاست اور اسلامی نظریات پر تفصیلی روشنی ڈالی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ میڈیا کا جو تقاضا ہے وہ سراسر شریعت کے منافی ہے۔ انہوں نے تنقید کی کہ میڈیا اکثر منفی پہلوؤں کی تشہیر کرتا ہے اور مثبت چیزیں چھپ جاتی ہیں، اور بعض اوقات ادارے لوگوں کے عیوب تلاش کرتے اور فائلیں تیار کرتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے قرآن کی تعلیم کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خبر بغیر تحقیق کے نہ پھیلائی جائے اور میڈیا کو کردار کشی کے لیے استعمال نہیں ہونا چاہیے۔
انہوں نے سوشل میڈیا کو ایک نئی دنیا قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کے اپنے تقاضے ہیں اور نوآبادیاتی دور میں مغربی ممالک نے دنیا پر غلبہ حاصل کیا، جس کے نتیجے میں قوموں کو آزادی کے لیے مسلح اور غیر مسلح جدوجہد کرنی پڑی۔
مولانا فضل الرحمن نے عالمی سیاست پر بات کرتے ہوئے کہا کہ آج جمہوریت اور کمیونزم دم توڑ رہے ہیں جبکہ سرمایہ داریت اور آمریت آگے بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ صدام حسین کویت میں داخل ہوتا تو مجرم تھا، لیکن امریکہ افغانستان، عراق اور وینزویلا میں داخل ہوتا ہے تو کوئی مسئلہ نہیں بنتا۔ روس نے افغانستان اور یوکرائن میں مداخلت کی، اور امکان ہے کہ چین بھی تائیوان میں داخل ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بھی طاقت کے استعمال اور ڈھونگ انتخابات کی روایت موجود ہے، جہاں وفاقی اور صوبائی حکومتیں عوامی نمائندگی سے خالی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے زور دیا کہ جمہوریت کے بغیر نظام قابل قبول نہیں اور امت مسلمہ کو نئی پالیسی کے ساتھ سامنے آنا چاہیے۔
مولانا فضل الرحمن نے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات اور دینی مدارس کے تحفظ پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ مدارس مسلمہ تعلیمی اور رفاہی ادارے ہیں جو 1866 سے قائم ہیں اور ان کے خلاف پالیسی ساز اقدامات جاری ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مدارس کی اہمیت کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جانا چاہیے اور دینی تعلیم کے خلاف اقدامات برداشت نہیں کیے جا سکتے۔
خطاب میں انہوں نے انسانی حقوق اور اسلامی قانون پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی نظام انسانی حقوق کی بہترین ضمانت دیتا ہے اور یہ قوانین اللہ کے تابع ہوتے ہیں جنہیں کوئی انسان سلب نہیں کر سکتا۔ انہوں نے ملک میں صدر مملکت کے مستثنی قرار پانے اور سیاسی مراعات کے خلاف بھی تنقید کی۔
مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ آج امت مسلمہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ عالمی حالات، اندرونی سیاست اور دینی تعلیمات کے تناظر میں ایک جامع اور مضبوط حکمت عملی اپنائے تاکہ عوام، دینی ادارے اور اسلامی اصولوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔