واشنگٹن: امریکا نے ایران کے ساتھ تجارتی تعلقات رکھنے والے ممالک کے خلاف سخت معاشی اقدامات کا اعلان کرتے ہوئے 25 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ جو بھی ملک ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کی تجارت جاری رکھے گا، اسے امریکا کے ساتھ ہونے والی تمام تجارتی سرگرمیوں پر 25 فیصد اضافی ٹیرف ادا کرنا ہوگا۔
امریکی صدر کے مطابق یہ فیصلہ حتمی ہے اور اس پر فوری طور پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس حکم میں کسی قسم کی نرمی یا استثنیٰ شامل نہیں ہوگا اور ایران کے ساتھ کاروبار کرنے والے تمام ممالک اس کی زد میں آئیں گے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کا یہ سخت مؤقف ایران میں جاری حکومت مخالف مظاہروں اور ان کے خلاف سکیورٹی فورسز کے کریک ڈاؤن کے تناظر میں اختیار کیا گیا ہے۔
ایران میں گزشتہ دو ہفتوں سے جاری احتجاجی مظاہروں کے دوران ہلاکتوں کی تعداد میں تشویشناک اضافہ رپورٹ کیا جا رہا ہے۔ ایک امریکی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق ان مظاہروں میں اب تک کم از کم 490 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس پر عالمی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر اس سے قبل بھی ایرانی حکومت کو مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال پر سخت انتباہ جاری کر چکے ہیں۔ گزشتہ روز اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا تھا کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہو سکتی ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران سے تجارت کرنے والے ممالک پر ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ نہ صرف ایران پر دباؤ بڑھانے کی کوشش ہے بلکہ یہ عالمی تجارت اور خطے کی معاشی صورتحال پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ کئی ممالک کے لیے امریکا اور ایران میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا ایک مشکل سفارتی چیلنج بن سکتا ہے۔
دوسری جانب عالمی منڈیوں میں بھی اس اعلان کے بعد بے یقینی کی فضا پائی جا رہی ہے، جبکہ آنے والے دنوں میں مختلف ممالک کی جانب سے اس امریکی فیصلے پر ردِعمل متوقع ہے۔