والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کی ناقص کارکردگی بے نقاب، سیاحت کے فروغ کا اہم منصوبہ التوا کا شکار

لاہور: صوبائی دارالحکومت لاہور کے تاریخی ورثے کی بحالی اور سیاحت کے فروغ کے لیے شروع کیا گیا ایک اہم منصوبہ والڈ سٹی اتھارٹی لاہور کے افسران کی ناقص کارکردگی کی نذر ہو گیا۔ عالمی بینک کی معاونت سے شروع کیا گیا اربن ری ہیبیلیٹیشن اینڈ انفراسٹرکچر امپروومنٹ پراجیکٹ مقررہ مدت میں مکمل نہ ہو سکا، جس سے ادارے کی انتظامی صلاحیتوں پر سنگین سوالات اٹھ گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق والڈ سٹی اتھارٹی کے افسران نے صوبائی دارالحکومت کے تاریخی علاقے بھاٹی گیٹ سے کٹری حاجی اللہ بخش تا طویلہ شیخاں شہری بحالی اور انفراسٹرکچر کی بہتری کا منصوبہ نہ صرف منظور کروایا بلکہ اسے ایگزیکٹو کمیٹی آف نیشنل اکنامک کونسل (ایکنک) تک سے منظوری بھی دلوائی، تاہم اس کے باوجود نااہلی کے باعث منصوبہ مکمل نہ کیا جا سکا۔

دستاویزات کے مطابق یہ منصوبہ 10 فروری 2023 کو 1 ارب 73 کروڑ روپے کی لاگت سے منظور کیا گیا تھا، جس کی مدتِ تکمیل 15 ماہ (مارچ 2023 تا جون 2024) مقرر کی گئی۔ منصوبے کے تحت تاریخی علاقے میں واقع 1028 جائیدادوں کو محفوظ بنانے اور بحالی کا ہدف مقرر کیا گیا تھا۔

تاہم، والڈ سٹی اتھارٹی مقررہ مدت میں صرف 348 جائیدادوں پر ہی کام کر سکی، جبکہ 690 جائیدادوں پر بحالی اور تحفظ کا کام مکمل نہ ہو سکا۔ اس طرح منصوبہ اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔

ذرائع کے مطابق اتھارٹی نے تاریخی حویلیوں اور گھروں کی بحالی پر کام کرنے والے ٹھیکیدار اور تاخیر سے ڈرائنگز فراہم کرنے والے کنسلٹنٹ کے خلاف کارروائی سے بھی گریز کیا، جس کے باعث منصوبے میں مزید تاخیر ہوئی اور ذمہ داران کے خلاف کوئی ٹھوس قدم نہ اٹھایا گیا۔

منصوبے کی ناکامی کے بعد والڈ سٹی اتھارٹی نے اس کی افادیت کم کرتے ہوئے 1028 جائیدادوں کے بجائے صرف 360 جائیدادوں تک منصوبے کا دائرہ محدود کرنے کی درخواست کی، جسے انتظامی حلقوں میں شدید تنقید کا سامنا ہے۔

اس صورتحال پر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب نے سخت نوٹس لیتے ہوئے والڈ سٹی اتھارٹی سے تاخیر کی وجوہات، ٹھیکیدار اور کنسلٹنٹ کے خلاف کارروائی نہ کرنے سمیت دیگر امور پر تفصیلی وضاحت طلب کر لی ہے۔

دوسری جانب منصوبے کے نظرثانی شدہ سکوپ کے تحت لاگت میں بھی نمایاں کمی کر دی گئی ہے۔ والڈ سٹی اتھارٹی نے منصوبے کی لاگت 1 ارب 73 کروڑ روپے سے کم کر کے 64 کروڑ 44 لاکھ روپے کر دی ہے، جبکہ بحالی کا دائرہ بھی محدود کر دیا گیا ہے۔

شہری و ثقافتی حلقوں کا کہنا ہے کہ تاریخی لاہور کے ورثے کی بحالی جیسے اہم منصوبوں میں اس نوعیت کی نااہلی نہ صرف سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ ہے بلکہ عالمی اداروں کے اعتماد کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ عوامی اور ماہرین کے حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ منصوبے میں تاخیر اور ناکامی کے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں اس طرح کی غفلت کا اعادہ نہ ہو۔

Related posts

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اثاثوں کی تفصیلات مقررہ وقت میں جمع نہ کرانے پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے درجنوں اراکین کی رکنیت معطل کر دی

محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مقرر، نوٹیفکیشن جاری

دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن کارروائی ہوگی، وزیراعظم کا دوٹوک پیغام