پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں سنگین مالی، انتظامی اور سماجی نوعیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف

پشاور: تحریکِ انصاف کی خیبر پختونخوا حکومت کے پشاور بس ریپڈ ٹرانزٹ (بی آر ٹی) منصوبے سے متعلق آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی خصوصی آڈٹ رپورٹ میں سنگین مالی، انتظامی اور سماجی نوعیت کی بے ضابطگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ رپورٹ میں اگرچہ بی آر ٹی کی آپریشنل کارکردگی کو مجموعی طور پر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے، تاہم منصوبے کی مالی پائیداری کو شدید خطرات سے دوچار بتایا گیا ہے، جس سے اس کے مستقبل پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

خصوصی آڈٹ رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی منصوبے کی مجموعی پائیداری غیر تسلی بخش ہے اور موجودہ حالات میں یہ منصوبہ صوبائی حکومت کے لیے ایک مستقل مالی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ لیز ٹو اون معاہدے کے تحت چلنے والی 64 بسیں معاہدے کی 12 سالہ مدت مکمل ہونے سے قبل ہی 12 لاکھ کلومیٹر کا ہدف پورا کر کے اپنی فعال عمر ختم کر دیں گی، جس کے باعث حکومت کو متبادل بسیں خریدنا ناگزیر ہو جائے گا۔

آڈٹ رپورٹ کے مطابق اس صورتحال میں حکومت کو 34 عدد 18 میٹر اور 30 عدد 12 میٹر نئی بسیں خریدنا ہوں گی تاکہ بی آر ٹی سروس جاری رکھی جا سکے۔ تاہم ایشیائی ترقیاتی بینک اور فرانسیسی ترقیاتی ادارے کے قرضوں کی مدت بالترتیب دسمبر 2022 اور دسمبر 2023 میں ختم ہو چکی ہے، جس کے بعد انہی ڈونرز سے نئی بسوں کے لیے فنڈنگ ملنے کا امکان نہایت کم ہے۔ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ صوبائی حکومت کے لیے اضافی وسائل کا بندوبست انتہائی مشکل ہوگا، جس کے نتیجے میں بی آر ٹی سروسز میں کمی کا خدشہ بھی موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس وقت بی آر ٹی سسٹم میں 158 بسیں زیرِ استعمال ہیں، جو روزانہ دو لاکھ پچاس ہزار سے زائد مسافروں کو سفری سہولت فراہم کر رہی ہیں۔ بسوں کے درمیان اوسط انتظار کا وقت ڈھائی منٹ ہے، ایکسپریس بسوں کی اوسط رفتار 34 کلومیٹر فی گھنٹہ جبکہ عام بسوں کی رفتار 27 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے۔ ہر سمت میں فی گھنٹہ 38 بسیں چلتی ہیں جبکہ ایکسپریس روٹس پر بسیں اوسطاً ہر چار منٹ بعد دستیاب ہوتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بی آر ٹی منصوبے نے پشاور کے مشرقی اور مغربی کوریڈور پر سفر کا وقت دو گھنٹے سے کم ہو کر صرف 45 منٹ تک محدود کر دیا ہے۔

اس کے باوجود آڈٹ رپورٹ میں مالی بے ضابطگیوں اور بڑھتی ہوئی لاگت پر شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئی ٹی ایس کنٹریکٹر کو 2.5 فیصد متغیر فیس کی ادائیگی اور اشتہارات سے حاصل ہونے والی غیر کرایہ آمدن بس آپریٹر کو دینے سے حکومت اور ٹرانس پشاور کمپنی پر اضافی مالی بوجھ پڑ رہا ہے۔ ایندھن اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث حکومت کو بس آپریٹر کو فی کلومیٹر بڑھتی ہوئی ادائیگیاں کرنا پڑ رہی ہیں، جبکہ ایک ہی ہفتے یا مہینے میں ایندھن کی قیمتیں متعدد بار بڑھنے کی صورت میں اس کا مجموعی بوجھ ماہانہ ادائیگیوں میں شامل کر لیا جاتا ہے۔

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ بس آپریٹر کے ملازمین کی تنخواہیں کنزیومر پرائس انڈیکس، ٹائروں کی قیمتیں ہول سیل پرائس انڈیکس، جبکہ مرمت اور لبریکنٹس کے اخراجات دیگر اشاریوں کے تحت ایڈجسٹ کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث مجموعی آپریشنل لاگت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سول ورکس میں غیر معمولی تاخیر کے باعث متوقع آمدن بروقت حاصل نہ ہو سکی، جس سے منصوبے کی بیک مدت مزید طویل ہو گئی، جبکہ لاگت کم کرنے کی حکمتِ عملیوں پر بھی خاطر خواہ پیش رفت نظر نہیں آئی۔

خصوصی آڈٹ رپورٹ میں سماجی پہلوؤں پر بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بس اسٹیشنز پر معذور اور بزرگ شہریوں کے لیے مناسب سہولیات فراہم نہیں کی گئیں، جو منصوبے کے بنیادی مقاصد کے منافی ہے۔ ان تمام عوامل کے باعث بی آر ٹی منصوبے کی مالی بقا کو شدید خطرات لاحق ہیں اور صوبائی حکومت کو مستقل بنیادوں پر سبسڈی فراہم کرنا پڑ رہی ہے۔

دوسری جانب ادارہ شماریات پشاور اور امریکی ادارے انسٹیٹیوٹ فار ٹرانسپورٹیشن اینڈ ڈیولپمنٹ پالیسی (ITDP) نے بھی بی آر ٹی پشاور کی کارکردگی کا جائزہ لیا ہے۔ ادارہ شماریات کے سروے میں بی آر ٹی کی مجموعی کارکردگی کو تسلی بخش قرار دیا گیا، جبکہ امریکی ادارے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بی آر ٹی پشاور نے شہر میں پیدل چلنے، سائیکلنگ اور مجموعی رسائی کو بہتر بنایا ہے اور موسمیاتی تبدیلی و شدید موسمی حالات سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر میں بہتری لائی گئی ہے۔

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں سفارش کی گئی ہے کہ بی آر ٹی سے متعلق تمام کنٹریکٹ معاہدوں پر ازسرِنو نظرثانی کی جائے، لاگت کم کرنے کے لیے مؤثر اور معاشی اقدامات اختیار کیے جائیں اور تعمیراتی سرگرمیوں کو تیز کیا جائے۔ رپورٹ میں واضح طور پر خبردار کیا گیا ہے کہ اگر بروقت اور ٹھوس اقدامات نہ کیے گئے تو پشاور بی آر ٹی منصوبے کی مالی پائیداری شدید متاثر ہو سکتی ہے، جس کے اثرات براہِ راست عوامی سفری سہولیات پر پڑیں گے۔

Related posts

وفاقی کابینہ نے 10 روپے کے نوٹ ختم کرنے پر فیصلہ کرنے کے لیے کمیٹی تشکیل دے دی

کراچی میں بچوں سے زیادتی کا سنگین اسکینڈل بے نقاب، 6 سال میں 100 سے زائد بچوں کو نشانہ بنانے والا ملزم گرفتار

جنید صفدر کی دوسری شادی کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز ہو گیا