اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے واضح کیا ہے کہ قومی اسمبلی کے فلور پر افواجِ پاکستان کے خلاف یا ججز کے کردار پر کوئی بھی غیر مناسب گفتگو برداشت نہیں کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کوئی رکن اینٹی پاکستان بات کرے گا تو وہ بطور اسپیکر اس کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
نیشنل کالج آف آرٹس (این سی اے) میں منعقدہ ڈگری شو 2025 میں شرکت کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ قومی اسمبلی ایک مقدس ایوان ہے اور اس کا وقار برقرار رکھنا ان کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایوان کو اس انداز میں چلایا جائے گا جس میں پاکستان کی بقا، سلامتی اور قومی مفاد کو مقدم رکھا جائے۔
اسپیکر قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ جو رکن تعمیری اور درست بات کرے گا اسے فلور ملتا رہے گا، تاہم اداروں کے خلاف غیر ذمہ دارانہ گفتگو کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ انہوں نے افواجِ پاکستان اور عدلیہ کو ریاستی ستون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خلاف منفی بیانات ملک کے مفاد کے خلاف ہیں۔
خارجہ پالیسی سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی اس وقت ملکی تاریخ کے بہترین مراحل میں سے گزر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ہمسایہ ملک کی جانب سے دہشت گردی جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جس سے نمٹنے کے لیے قومی یکجہتی ناگزیر ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر ملک میں مختلف مافیاز موجود ہوتے ہیں اور ان کے خلاف لڑنا صرف حکومت ہی نہیں بلکہ عوام کی بھی ذمہ داری ہے۔ ایاز صادق کے مطابق سچ اور حق ہی وہ طاقت ہے جو مافیاز کو آگے بڑھنے سے روکتی ہے۔
بلدیاتی انتخابات سے متعلق سوال پر اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ وہ نہ حکومت کا حصہ ہیں اور نہ ہی الیکشن کمیشن میں شامل ہیں، اس لیے بلدیاتی انتخابات سے متعلق سوالات متعلقہ اداروں سے کیے جانے چاہئیں۔
احتجاج کے حق پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ احتجاج کرنا سب کا آئینی حق ہے، تاہم بہتر یہی ہے کہ پارلیمان کے اندر آ کر عوامی مسائل کے حل اور خدمت پر توجہ دی جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت مضبوط تب ہوتی ہے جب اختلاف رائے شائستگی اور آئینی حدود کے اندر رہ کر کیا جاسکتی ہے۔