ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی مہنگی ہونے کا امکان، سی پی پی اے کی نیپرا میں درخواست جمع

ملک بھر کے بجلی صارفین کے لیے ایک اور مہنگائی کی خبر سامنے آ گئی ہے، جہاں ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ (ایف پی اے) کی مد میں بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) نے دسمبر کے لیے فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی درخواست نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں جمع کرا دی ہے۔

سی پی پی اے کی جانب سے جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق دسمبر کے مہینے میں مجموعی طور پر 8 ارب 48 کروڑ 70 لاکھ یونٹس بجلی پیدا کی گئی، جبکہ ڈسٹری بیوشن کمپنیوں (ڈسکوز) کو 8 ارب 20 کروڑ 80 لاکھ یونٹس بجلی فراہم کی گئی۔ درخواست میں بتایا گیا ہے کہ اس دوران بجلی کی فی یونٹ لاگت 9 روپے 62 پیسے رہی۔

ذرائع کے مطابق فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمتوں میں رد و بدل بجلی کی پیداواری لاگت میں ہونے والے فرق کی بنیاد پر کیا جاتا ہے، جس کا براہِ راست اثر صارفین کے ماہانہ بلوں پر پڑتا ہے۔ اگر نیپرا سی پی پی اے کی درخواست منظور کر لیتی ہے تو صارفین کو آنے والے بلوں میں اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔

نیپرا سی پی پی اے کی اس درخواست پر 29 جنوری کو باقاعدہ سماعت کرے گی، جس کے دوران بجلی کی پیداواری لاگت، استعمال ہونے والے ایندھن اور دیگر عوامل کا جائزہ لیا جائے گا۔ سماعت کے بعد نیپرا فیصلہ کرے گی کہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی قیمت میں اضافہ کیا جائے یا نہیں۔

توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مقامی بجلی گھروں کی کارکردگی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ پر اثر انداز ہوتی ہے۔ دوسری جانب صارفین پہلے ہی مہنگی بجلی سے پریشان ہیں اور ممکنہ اضافے پر تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

نیپرا کے فیصلے کے بعد یہ واضح ہو سکے گا کہ دسمبر کی فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کا بوجھ بجلی صارفین پر کس حد تک منتقل کیا جاتا ہے۔

Related posts

اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کا کہنا ہے: آئین ایک وعدہ ہے، رشتے خراب نہیں ہونے دینے دیں گے

چودھری پرویزالٰہی نے محمود خان اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر مقرر ہونے پر ٹیلیفونک رابطے کے ذریعے مبارکباد دی

جنید صفدر کی بارات کی تصاویر منظرِ عام پر، شریف خاندان کی شادی کی تقریب میں سیاسی و سماجی شخصیات کی شرکت