اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے جامشورو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آئین اور قومی مفاد پر زور دیا اور کہا کہ آئین ایک وعدہ ہے، اگر اسے توڑا گیا تو قومی اور صوبائی رشتے خراب ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی غیرانسانی ہے اور حکمرانی میں تمام قوموں اور زبانوں کا احترام ہونا چاہیے۔ اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی کہا کہ خارجہ پالیسی پر پارلیمنٹ کی منظوری ضروری ہے اور خطے کی صورتحال پر گول میز کانفرنس بلائی جائے تاکہ سب فریقین اپنی رائے دے سکیں۔
بعد ازاں حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی نے کہا کہ ملک میں کھوٹے سکوں کو ہٹانے کے لیے تحریک چلانا ضروری ہے۔ ان کے مطابق نظام اچھا ہے لیکن چلانے کی نیت نہیں ہوتی، اور اگر ملک کے تمام قوموں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے تو ملک بخوبی چل سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تین روزہ گول میز کانفرنس میں تمام جماعتوں کی بات سنی جائے اور اتفاق رائے سے ملک کو چلانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔
اپوزیشن لیڈر نے واضح کیا کہ وہ کسی کو گالی نہیں دیں گے بلکہ تعمیری سیاست کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کا نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ کوئی مالی یا سیاسی تعلق نہیں، صرف چند کپ چائے کے علاوہ ان سے کوئی ادھار نہیں، اور جب وہ آئیں گے تو انہیں چائے پیش کی جائے گی۔
محمود خان اچکزئی کا موقف ہے کہ آئین اور پارلیمانی عمل کو مضبوط بنانا تمام سیاسی جماعتوں کی ذمہ داری ہے، اور باہمی احترام اور تعاون کے ذریعے ہی ملک میں استحکام اور ترقی ممکن ہے۔