کراچی کے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں تیسرے درجے کی خوفناک آتشزدگی کے بعد دل دہلا دینے والی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں۔ آگ کی اس ہولناک واردات میں دو الگ الگ شادیوں کی شاپنگ کے لیے آنے والے دو خاندانوں کے مجموعی طور پر 12 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن میں خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہیں۔
آتشزدگی کی شکار عمارت کے باہر موجود لاپتا افراد کے ورثا شدید کرب اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق کرن نامی لڑکی کی شادی کے لیے اس کی والدہ کوثر اور دیگر گھر والے خریداری کی غرض سے گل پلازہ گئے تھے، تاہم ہفتے کی رات آگ لگنے کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا اور تمام رابطے منقطع ہو چکے ہیں۔
لاپتا خواتین کی تلاش میں آنے والے ماموں اور مامی نے بتایا کہ ان کا خاندان گل پلازہ کے قریب ہی رہائش پذیر ہے۔ خاتون کے مطابق آگ کے واقعے میں ان کے خاندان کے 6 افراد لاپتا ہیں، جن میں دلہن کرن کی والدہ کوثر، ان کا اکلوتا بیٹا سعد، بھائی اشرف اور لڑکی مصباح شامل ہیں۔ ورثا کا کہنا ہے کہ انہوں نے مختلف اسپتالوں اور برنس سینٹرز میں اپنے پیاروں کو تلاش کیا، مگر نہ تو وہ زخمیوں میں ملے اور نہ ہی جاں بحق افراد کی فہرست میں ان کے نام موجود ہیں۔
اسی طرح ایک اور خاندان کے 6 افراد بھی شادی کی خریداری کے لیے گل پلازہ گئے تھے جو اب تک لاپتا ہیں۔ ان لاپتا افراد میں 45 سالہ تنویر احمد، 42 سالہ عمر نبیل، 33 سالہ عائشہ سمیع، 18 سالہ عبداللہ، 15 سالہ سفیان اور 11 سالہ علی بن عمر شامل ہیں۔ اہلخانہ کے مطابق واقعے کے بعد سے ان تمام افراد کے موبائل فون بند ہیں اور کسی قسم کا رابطہ ممکن نہیں ہو سکا۔
گل پلازہ میں آتشزدگی کے بعد متعدد شہری اپنے پیاروں کی تلاش میں عمارت کے باہر، اسپتالوں اور ریسکیو مراکز کے چکر لگا رہے ہیں۔ ایک متاثرہ شہری نے بتایا کہ اس کے بھائی سے آخری بار بات ہوئی تو اس نے گھبراہٹ میں کہا تھا کہ عمارت میں آگ لگی ہوئی ہے، مجھے بچالو، میں مر جاؤں گا۔ اسی طرح گل پلازہ میں کام کرنے والا دکان دار عارف بھی لاپتا ہے، جس کے چچا کے مطابق عارف نے آخری کال میں کہا تھا کہ وہ آگ سے لڑ رہا ہے اور مدد کے لیے پکار رہا ہے۔
یاد رہے کہ گل پلازہ میں لگنے والی آگ کئی گھنٹوں تک بے قابو رہی، جس کے باعث عمارت کے حصے منہدم ہو گئے۔ اب تک 6 افراد جاں بحق اور درجنوں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ ریسکیو ادارے لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، تاہم متاثرہ خاندانوں کی بے چینی لمحہ بہ لمحہ بڑھتی جا رہی ہے۔