اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان کی حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب چاروں صوبے یکساں طور پر آگے بڑھیں۔ خیبرپختونخوا کو دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے گزشتہ 15 برسوں میں 800 ارب روپے فراہم کیے گئے، تاہم صوبے میں وہ ترقی نظر نہیں آتی جو این ایف سی ایوارڈ کے تحت ملنے والے وسائل سے ہونی چاہیے تھی۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کا مکمل قلع قمع کیے بغیر قوم چین سے نہیں بیٹھے گی۔
وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار قومی ورکشاپ میں خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف، وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور دیگر اعلیٰ حکام بھی موجود تھے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے خیبرپختونخوا کو پاکستان کا ایک انتہائی اہم اور اسٹریٹجک صوبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس صوبے کے عوام نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا فرنٹ لائن صوبہ رہا ہے جہاں سیاستدانوں، ڈاکٹروں، انجینئرز، پاک فوج، پولیس، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور عام شہریوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔
انہوں نے افغان جنگ کے تناظر میں کہا کہ 40 لاکھ افغان مہاجرین کی میزبانی پاکستان خصوصاً خیبرپختونخوا کے عوام نے کھلے دل سے کی، جو بطور مسلمان اور ہمسایہ ہمارا فرض تھا، تاہم اس کے نتیجے میں ملک میں کلاشنکوف کلچر اور دہشت گردی نے جنم لیا، جس میں ہزاروں بے گناہ شہری شہید ہوئے۔
وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ اے پی ایس کے بعد پوری قوم نے فیصلہ کیا کہ اب گڈ اور بیڈ طالبان کی کوئی تفریق نہیں ہوگی، جس کے نتیجے میں 2018 تک دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا، مگر بعد ازاں دہشت گردوں کی رہائی اور واپسی ایک فاش غلطی ثابت ہوئی، جس سے دہشت گردی نے دوبارہ سر اٹھایا اور ملکی ترقی کو شدید نقصان پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے بہادر سپاہی اور جوان روزانہ اپنے بچوں کو خدا حافظ کہہ کر ملک کے دفاع کے لیے نکلتے ہیں اور دہشت گردوں کا مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کا رتبہ پاتے ہیں۔ ان قربانیوں کی توہین کرنا ناقابلِ برداشت ہے، مگر بدقسمتی سے سوشل میڈیا پر شہداء کے خلاف زہر اگلا جا رہا ہے جو دشمن کے بیانیے کو تقویت دینے کے مترادف ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ 2010 کے این ایف سی ایوارڈ میں پنجاب نے پہل کرتے ہوئے اپنے حصے سے ایک فیصد خیبرپختونخوا کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے دیا۔ اسی طرح بلوچستان کے لیے بھی اضافی وسائل فراہم کیے گئے۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ قومی یکجہتی کا تقاضا ہے، کیونکہ اگر ایک صوبہ ترقی کرے اور باقی پیچھے رہ جائیں تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ہو سکتی۔
انہوں نے بتایا کہ بلوچستان میں 850 کلومیٹر طویل خونی سڑک کے لیے 400 ارب روپے مختص کیے گئے، جبکہ صوبے کے کسانوں کے لیے سولر ٹیوب ویل منصوبے میں 75 ارب روپے رکھے گئے، جن میں سے 50 ارب وفاق نے فراہم کیے۔ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں دانش اسکولوں کا جال بچھایا جا رہا ہے، جبکہ میرٹ پر لیپ ٹاپس اور وظائف فراہم کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک ہزار زرعی گریجویٹس کو چین کی اعلیٰ جامعات میں جدید تربیت کے لیے بھجوایا گیا ہے، جن کا تعلق چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان سے ہے، اور یہ نوجوان زرعی انقلاب میں اہم کردار ادا کریں گے۔
بھارت کی حالیہ جارحیت پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 6 مئی کو بھارت کے حملے میں 53 پاکستانی شہید ہوئے، جس کے جواب میں پاکستان نے بھرپور کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے سات جنگی طیارے مار گرائے۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں دشمن کو ایسا سبق سکھایا گیا جو وہ کبھی نہیں بھولے گا۔
افغانستان سے تعلقات پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ دوحہ اور چین میں افغان عبوری حکومت سے بات چیت کی گئی، مگر انہوں نے کوئی مثبت جواب نہیں دیا، جس کے بعد پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے۔ اب یہ افغان حکومت پر ہے کہ وہ پرامن ہمسائے کے طور پر رہنا چاہتی ہے یا نہیں۔
خیبرپختونخوا حکومت سے تعلقات کے حوالے سے وزیراعظم نے سرد جنگ کے تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ کو عہدہ سنبھالنے کے بعد خود فون کر کے مبارکباد دی، مگر بدقسمتی سے مثبت جواب نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹ اور پراپیگنڈے کے ذریعے نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولا جا رہا ہے، جس کا سدباب ضروری ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ وزیراعظم صحت پروگرام کو دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت وفاقی دارالحکومت، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے عوام کے مفت علاج کے لیے 40 ارب روپے فراہم کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ معاشی استحکام حاصل ہو چکا ہے اور اب ملک کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کیے جا رہے ہیں۔