مریم نواز کے لباس پر تنقید، عظمیٰ بخاری کا ناقدین کو دو ٹوک جواب ’’جلن اس بات کی ہے کہ مریم نواز اچھی کیوں دکھتی ہیں‘‘

لاہور: پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے لباس اور انداز پر تنقید کرنے والے سوشل میڈیا صارفین کو سخت جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ مریم نواز کو نشانہ بنانے کی اصل وجہ ان سے ذاتی جلن اور تعصب ہے، نہ کہ کوئی اصولی مؤقف۔

تفصیلات کے مطابق حالیہ دنوں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے صاحبزادے جنید صفدر کی شادی کی تقریبات منعقد ہوئیں، جن میں مہندی، نکاح، شادی اور ولیمہ شامل تھے۔ ان تقریبات کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں، جہاں ایک طبقے نے مریم نواز کے لباس اور انداز کی تعریف کی جبکہ بعض صارفین کی جانب سے تنقید بھی سامنے آئی۔

اسی تناظر میں عظمیٰ بخاری کا ایک ویڈیو بیان پنجاب حکومت کے آفیشل انسٹاگرام اکاؤنٹ پر جاری کیا گیا، جس میں انہوں نے تنقید کرنے والوں کو آڑے ہاتھوں لیا۔

عظمیٰ بخاری نے کہا کہ مریم نواز کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ اتنا تیار تھیں کہ دلہن نمایاں نہیں ہو سکی، سراسر بدنیتی پر مبنی بات ہے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ مریم نواز جب عام دنوں میں سادہ لباس میں دفتر آتی ہیں تب بھی وہ خبروں اور توجہ کا مرکز ہوتی ہیں، اس لیے لائم لائٹ کا تعلق لباس سے نہیں بلکہ شخصیت سے ہے۔

وزیر اطلاعات پنجاب نے کہا کہ ناقدین کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ انہیں مریم نواز سے جلن ہے، کیونکہ وہ اچھی دکھتی ہیں۔ ان کے مطابق یہ اللہ کی عطا ہے اور اس پر اعتراض کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے جنید صفدر کی شادی کو ’’ٹاپ آف دی ٹاؤن‘‘ تقریب قرار دیتے ہوئے کہا کہ شادی بیاہ کے مواقع پر ہر خاندان اپنی روایت، حیثیت اور استطاعت کے مطابق انتظامات کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے مواقع کا مقصد خوشی کو اچھے انداز میں منانا اور قریبی عزیز و اقارب کے ساتھ یادگار لمحے بانٹنا ہوتا ہے۔

عظمیٰ بخاری نے سوشل میڈیا پر ہونے والی تنقید کو بدتمیزی اور اخلاقی پستی قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جب یہ طوفان بدتمیزی دیکھا تو افسوس ہوا کہ معاشرے میں اس قدر تنگ نظری پائی جاتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر 70 سال کی عمر میں کوئی مرد شیروانی پہن کر دلہا بن سکتا ہے، فوٹو شوٹ کرا سکتا ہے اور اسے قابل قبول سمجھا جاتا ہے تو پھر ایک ماں اپنے جوان بیٹے کی شادی پر تیار کیوں نہیں ہو سکتی؟

انہوں نے کہا کہ مریم نواز ایک ماں ہیں اور اپنے بیٹے کی شادی پر خوش ہونا اور اس خوشی کا اظہار کرنا ان کا حق ہے، جس پر تنقید نہ صرف غیر اخلاقی بلکہ دوہرا معیار بھی ہے۔

عظمیٰ بخاری نے واضح کیا کہ خواتین کو ان کے لباس اور ظاہری شکل کی بنیاد پر نشانہ بنانا ایک فرسودہ سوچ کی عکاسی کرتا ہے، اور ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔

Related posts

بسنت کی رونقیں عروج پر: لاہور میں 54 کروڑ سے زائد کی ڈور اور گڈی فروخت، پشاور کے یکہ توت بازار میں پتنگ سازی کا کاروبار تیز

لاہور میں بسنت کی رنگا رنگ تیاریاں عروج پر، 6 تا 8 فروری میلہ سجے گا — کھانوں، ہوٹلوں اور سیاحت کا کاروبار چمک اٹھا

خیبر کے علاقے باڑہ میں فائرنگ سے قتل کیے گئے چار افراد کی لاشیں برآمد، تحقیقات شروع