لاہور: امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا ہے کہ اگر پنجاب حکومت نے پندرہ فروری تک جمہوریت دشمن بلدیاتی قانون واپس نہ لیا تو جماعت اسلامی پنجاب اسمبلی کا گھیراؤ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی کی جانب سے کروائے گئے عوامی ریفرنڈم کے ابتدائی مرتب شدہ نتائج کے مطابق 99.7 فیصد عوام نے اس بلدیاتی قانون کو مسترد کر دیا ہے۔
منصورہ میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے بتایا کہ اب تک پنجاب بھر سے پندرہ لاکھ سے زائد ووٹوں کے نتائج مرتب کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید نتائج موصول ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شدید سردی کے باوجود عوام کی بڑی تعداد نے بلدیاتی قانون کے خلاف رائے دی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عوام بااختیار بلدیاتی نظام چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت اسلامی نے گھر گھر جا کر عوام تک پہنچنے کی کوشش کی، جبکہ ضلعی تنظیموں کی جانب سے ریفرنڈم کی مدت میں توسیع کی اپیلیں بھی موصول ہو رہی ہیں۔ پندرہ فروری تک بااختیار بلدیاتی نظام کے حق میں عوامی آگاہی مہم جاری رہے گی۔
اس موقع پر نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، امیر جماعت اسلامی پنجاب وسطی جاوید قصوری، امیر پنجاب شمالی ڈاکٹر طارق سلیم، سیکرٹری جنرل پنجاب جنوبی ثناء اللہ سرانی، سیکرٹری جنرل پنجاب وسطی ڈاکٹر بابر رشید اور سیکرٹری جنرل لاہور اظہر بلال بھی موجود تھے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کراچی میں گُل پلازہ آتشزدگی کے واقعے پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جاں بحق افراد کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبر جمیل کی دعا کی۔ انہوں نے اس سانحے کو سندھ اور کراچی کی بلدیاتی حکومتوں کی مکمل ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ واقعہ پیپلز پارٹی کی حکمرانی کی کارکردگی کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جماعت اسلامی یکم فروری کو کراچی کے مسائل اور صوبے پر مسلط حکمرانوں کے خلاف ملین مارچ کرے گی۔
امیر جماعت اسلامی نے ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ دونوں پارٹیاں خود کو بڑی جمہوری جماعتیں کہلاتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ چند خاندانوں، چودھریوں اور وڈیروں تک محدود ہو چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں جماعتیں قومی انتخابات میں بری طرح شکست کھا چکی تھیں مگر اس کے باوجود انہیں زبردستی اقتدار میں مسلط کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں پارٹیاں جمہوریت دشمن رویے اپنائے ہوئے ہیں اور عدلیہ، زراعت، تعلیم، صحت سمیت تمام شعبوں کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کسان سے گندم دو ہزار روپے فی من خریدی گئی جبکہ آج آٹا چھ ہزار روپے فی من فروخت ہو رہا ہے، باقی چار ہزار روپے مافیا کھا رہا ہے جو حکومتی ایوانوں میں بیٹھا ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پنجاب کا بلدیاتی کالا قانون ن لیگ کی خوفزدگی کی واضح علامت ہے جبکہ گُل پلازہ آتشزدگی نے پیپلز پارٹی کی کارکردگی کو مکمل طور پر آشکار کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اور کراچی کی ابتر صورتحال کے باوجود بلاول بھٹو کو ’’ونڈر بوائے‘‘ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جو زمینی حقائق کے برعکس ہے۔
امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی نے نومبر کے اجتماعِ عام میں نظام بدلنے کی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا تھا اور بااختیار بلدیاتی نظام کی جدوجہد اسی تحریک کا حصہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں جاگیرداروں، وڈیروں اور افسر شاہی کا تسلط قائم ہے۔ بیوروکریسی کا نظام آج بھی انگریز دور کا چل رہا ہے، حالانکہ ملک آزاد ہو چکا اور آئین نافذ ہو چکا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ سیاسی جماعتیں مقتدرہ کو خوش کرنے میں مصروف ہیں جبکہ عوام کو حقِ حکمرانی نہیں دیا جا رہا، عوام ووٹ دیتے ہیں تو فارم 47 سامنے آ جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی شفاف انتخابی نظام، متناسب نمائندگی اور بااختیار بلدیاتی نظام کی جدوجہد کر رہی ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ اسلام آباد میں پانچ اور پنجاب میں چار مرتبہ بلدیاتی انتخابات کے شیڈول تبدیل کیے گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پنجاب کے بلدیاتی قانون میں نچلی سطح پر منتخب نمائندوں کی خرید و فروخت کا راستہ کھولا گیا ہے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ سندھ میں بلدیاتی حکومتوں سمیت پورا نظام پیپلز پارٹی اور زرداری خاندان کے قبضے میں ہے، جبکہ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ خیبرپختونخوا میں بھی پی ٹی آئی نے بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات نہیں دیے۔ کوئٹہ میں بار بار بلدیاتی انتخابات معطل کیے گئے، جس کے باعث نچلی سطح پر سیاسی کارکنوں کی تربیت کا عمل متاثر ہوا۔
فلسطین کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ سابق امریکی صدر ٹرمپ کا غزہ پر ’’بورڈ آف پیس‘‘ کا اعلان نوآبادیاتی نظام کی نئی شکل ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کسی صورت غزہ سے متعلق آئی ایس ایف یا بورڈ آف پیس کا حصہ نہ بنے بلکہ حماس کی حمایت یافتہ فلسطینیوں پر مشتمل کمیٹی کی حمایت کرے۔
ایک سوال کے جواب میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ تحریک تحفظ آئین پاکستان نے تاحال عوامی ایجنڈے پر واضح مؤقف اختیار نہیں کیا، حالانکہ اسے عوامی حقوق کا ایجنڈا بھی سامنے لانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی تمام سیاسی قیدیوں کی رہائی کی حامی ہے اور تحریک تحفظ آئین پاکستان کے جائز مطالبات کی مکمل حمایت کرتی ہے۔