اسلام آباد: دفتر خارجہ کی تصدیق، فلسطینی ریاست کی بھرپور حمایت کا اعادہ پاکستان نے غزہ میں پائیدار امن کے قیام کے لیے قائم کیے گئے بین الاقوامی فورم ’بورڈ آف پیس‘ میں شمولیت کی دعوت باضابطہ طور پر قبول کرلی ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ یہ دعوت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کو دی گئی تھی، جسے پاکستان نے قبول کرتے ہوئے غزہ امن منصوبے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔
غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اقدامات
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 کے تحت غزہ میں امن سے متعلق منصوبے کی حمایت کی ہے۔ ’بورڈ آف پیس‘ کا بنیادی مقصد غزہ میں مستقل جنگ بندی کے لیے عملی اور مؤثر اقدامات کرنا ہے تاکہ خطے میں جاری انسانی بحران کا خاتمہ ممکن بنایا جا سکے۔
انسانی امداد میں اضافے پر زور
دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے فلسطینی عوام کے لیے انسانی امداد میں فوری اور نمایاں اضافے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ غزہ میں جاری تنازع نے انسانی صورتحال کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے، جس کے حل کے لیے عالمی برادری کو مشترکہ ذمہ داری ادا کرنا ہوگی۔
حقِ خودارادیت اور آزاد فلسطینی ریاست کی حمایت
ترجمان کے مطابق پاکستان نے ایک بار پھر فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت کی غیرمتزلزل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ پاکستان آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مشتمل ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔
پاکستان کا تعمیری کردار جاری رکھنے کا عزم
دفتر خارجہ نے واضح کیا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے دکھ اور مصائب کے خاتمے کے لیے اپنا تعمیری اور فعال کردار آئندہ بھی ادا کرتا رہے گا۔ ترجمان کے مطابق ’بورڈ آف پیس‘ کے پلیٹ فارم سے غزہ میں امن کے قیام کے لیے عملی پیش رفت کی امید کی جا رہی ہے۔
بورڈ آف پیس: مقاصد اور عالمی خدشات
غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق امریکا مختلف عالمی رہنماؤں پر زور دے رہا ہے کہ وہ صدر ٹرمپ کی سربراہی میں قائم اس بورڈ کا حصہ بنیں۔ رپورٹ کے مطابق اس بورڈ میں مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر فیس مقرر کی گئی ہے۔
ابتدائی طور پر اس ادارے کا مقصد غزہ کی بحالی کے امور کی نگرانی بتایا گیا تھا، تاہم اس کے چارٹر میں اس کے دائرۂ کار کو صرف غزہ تک محدود نہیں رکھا گیا۔ خبر رساں ایجنسی کا کہنا ہے کہ دستیاب دستاویزات کے مطابق یہ ادارہ مستقبل میں اقوام متحدہ کے متبادل یا حریف کے طور پر ابھرنے کی کوشش بھی کر سکتا ہے، جس پر عالمی سطح پر سوالات اور تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔