کراچی: میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے ایم کیو ایم پاکستان کے مؤقف پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ کسی سانحے کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ کراچی پاکستان کا دل ہے اور اس پر سیاست نہیں بلکہ عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت پنجاب میں سڑکوں سمیت متعدد ترقیاتی منصوبے خود مکمل کرتی ہے، تاہم کراچی کے لیے ایسا تعاون نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں جاری میگا منصوبوں کی تکمیل کے حوالے سے صوبائی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے کے بجائے وفاق سے سوال کیا جانا چاہیے۔
مرتضیٰ وہاب کا کہنا تھا کہ یلو لائن اور ریڈ لائن منصوبوں کی تاخیر کا ذمہ دار صوبہ نہیں بلکہ وفاقی عدم تعاون ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سے یہ نہ پوچھا جائے کہ یہ منصوبے مکمل کیوں نہیں ہوئے بلکہ وفاقی حکومت سے پوچھا جائے کہ کراچی میں شروع کیا گیا گرین لائن منصوبہ اب تک مکمل کیوں نہ ہو سکا۔
میئر کراچی نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ کسی بھی سانحے کی آڑ میں سیاست کرنے اور صوبے کو تقسیم کرنے کی سوچ ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی کے مسائل کا حل تقسیم نہیں بلکہ بہتر طرزِ حکمرانی، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور ادارہ جاتی تعاون میں ہے۔
دوسری جانب ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما اور سینیٹر فیصل سبزواری نے مرتضیٰ وہاب کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ سیاست ممکنات کا کھیل ہے اور کراچی کو وفاق کے حوالے کرنے کی تجویز بھی اسی تناظر میں دی جا رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کسی سانحے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال نہیں کر رہی بلکہ شہر کے دیرینہ مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھا رہی ہے۔
سینیٹر فیصل سبزواری نے مزید کہا کہ کراچی کے عوام طویل عرصے سے بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں اور اگر موجودہ انتظامی نظام ناکام ہو چکا ہے تو متبادل آپشنز پر بات کرنا کوئی جرم نہیں۔
واضح رہے کہ حالیہ دنوں میں ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے کراچی کو وفاق کے زیر انتظام علاقہ بنانے کا مطالبہ سامنے آیا ہے، جس نے ملکی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاملہ آنے والے دنوں میں سندھ اور وفاقی سیاست میں مزید کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔