کراچی کے علاقے جنوبی میں واقع گل پلازہ میں آتشزدگی کے المناک سانحے سے متعلق سرچ آپریشن تقریباً مکمل کر لیا گیا ہے۔ ڈپٹی کمشنر جنوبی جاوید نبی کھوسو کے مطابق ریسکیو اور ٹیکنیکل ٹیمیں آج آخری مرتبہ عمارت کے اندر جائیں گی، جس کے بعد گل پلازہ کو باقاعدہ طور پر سیل کر دیا جائے گا۔
ڈپٹی کمشنر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر اب بھی کسی خاندان کا کوئی فرد لاپتا ہے تو وہ فوری طور پر انتظامیہ سے رابطہ کر سکتا ہے تاکہ ریکارڈ کی جانچ کی جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب تک 79 لاپتا افراد کی فہرست مرتب کی گئی تھی، جن میں سے 13 افراد کے لواحقین نے تاحال ڈی این اے سیمپل فراہم نہیں کیے، جس کی وجہ سے شناخت کے عمل میں تاخیر ہو رہی ہے۔
جاوید نبی کھوسو کے مطابق سانحے میں ملنے والی 30 لاشوں کا مکمل ڈیٹا حکومت کو ارسال کر دیا گیا ہے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو مالی امداد اور دیگر واجبات کی ادائیگی کا عمل شروع کیا جا سکے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ متاثرہ ورثا کے ساتھ تعاون اولین ترجیح ہے۔
دوسری جانب ایس ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ واقعے کی جامع تحقیقات جاری ہیں اور غفلت و لاپرواہی کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر اس بات کی تحقیق کی جا رہی ہے کہ آگ لگنے کے بعد بھی عمارت کے دروازے کیوں نہیں کھولے گئے، جس کے باعث قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔
پولیس حکام کے مطابق ذمہ دار عناصر کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور کسی کو بھی غفلت کا ذمہ دار ثابت ہونے پر نہیں بخشا جائے گا۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں پیش آنے والے اس دلخراش سانحے میں 73 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے اب تک 23 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ یہ افسوسناک واقعہ گزشتہ ہفتے 17 جنوری کی رات پیش آیا تھا، جب اچانک آگ بھڑک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت اس کی لپیٹ میں آ گئی، جس نے شہر بھر کو سوگوار کر دیا۔
سانحہ گل پلازہ نے ایک بار پھر کراچی میں عمارتوں کی حفاظت، فائر سیفٹی انتظامات اور ادارہ جاتی نگرانی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔