لاہور: پنجاب حکومت نے بسنت کے موقع پر امنِ عامہ، مذہبی ہم آہنگی اور اشتعال انگیزی کے خدشات کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت مختلف پابندیاں نافذ کر دی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد بسنت کو ایک محفوظ اور تفریحی تہوار کے طور پر منانا یقینی بنانا ہے۔
حکومت پنجاب کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران مذہبی یا سیاسی نوعیت کی کسی بھی سرگرمی یا علامت کے استعمال پر 30 روز کے لیے پابندی عائد کی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں واضح کیا گیا ہے کہ ایسی پتنگوں کی تیاری، خرید و فروخت اور استعمال ممنوع ہوگا جن پر مقدس کتب، مذہبی مقامات، کسی مذہبی یا سیاسی شخصیت کی تصاویر، سیاسی جماعتوں یا کسی ملک کے جھنڈے بنے ہوں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بسنت کے دوران صرف سادہ، بغیر تصویر والی یک رنگی یا کثیر رنگی گُڈّا اور پتنگ استعمال کرنے کی اجازت ہوگی۔ اس کے برعکس قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت یا استعمال کو قابلِ تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے۔
حکومتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بسنت کے دوران اشتعال انگیز عناصر کی جانب سے مذہبی یا سیاسی علامات استعمال کیے جانے کا خدشہ تھا، جس کے پیشِ نظر دفعہ 144 کے تحت یہ احکامات فوری طور پر نافذ العمل ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ خلاف ورزی کی صورت میں بلاامتیاز سخت کارروائی کی جائے۔
دوسری جانب محکمہ داخلہ پنجاب کے ترجمان نے بتایا ہے کہ حکومت نے لاہور میں 6 سے 8 فروری تک محفوظ بسنت منانے کی مشروط اجازت دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بسنت کو ایک ثقافتی اور تفریحی تہوار کے طور پر اجازت دی گئی ہے، تاہم کسی بھی قسم کی قانون شکنی برداشت نہیں کی جائے گی۔
ترجمان کے مطابق عوام کے مذہبی جذبات کے احترام اور امنِ عامہ کے تحفظ کے لیے یہ پابندیاں ناگزیر تھیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ دھاتی تار، نائلون یا شیشے سے لیپ شدہ ڈور کے استعمال پر مکمل پابندی عائد ہے، جبکہ خطرناک ڈور اور پتنگوں کی تیاری، نقل و حمل، ذخیرہ، فروخت اور استعمال سختی سے ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
محکمہ داخلہ کے ترجمان نے خبردار کیا کہ مقررہ تاریخ سے قبل پتنگ بازی کرنے پر 5 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ ممنوعہ مواد کی تیاری یا فروخت میں ملوث افراد کو 7 سال تک قید اور 50 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا دی جا سکتی ہے۔
حکومت پنجاب کا کہنا ہے کہ شہری قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بنائیں تاکہ بسنت کا تہوار خوشگوار، محفوظ اور پُرامن ماحول میں منایا جا سکے۔