پاکستان کی انتظامی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں صوبہ بلوچستان نے پہلی مرتبہ سرکاری بھرتیوں کے عمل میں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) کا مکمل اور عملی استعمال کرتے ہوئے 100 سے زائد آسامیوں پر شفاف انداز میں تقرریاں مکمل کر لیں۔ اس پیش رفت کو نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک میں گورننس کے نظام کے لیے ایک نئے سنگِ میل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
18 جنوری کو بلوچستان کی انتظامی تاریخ کا ایک یادگار دن قرار دیا جا رہا ہے، جب صوبائی محکمۂ خزانہ میں سب اکاؤنٹنٹس کی 100 سے زائد آسامیوں پر بھرتی کا عمل مکمل طور پر خودکار اے آئی سسٹم کے ذریعے انجام پایا۔ یہ عمل ایک ایسے صوبے میں کیا گیا جو طویل عرصے سے نااہلی، اقربا پروری اور سفارش کے الزامات کی زد میں رہا ہے۔
حکام کے مطابق اس جدید نظام میں بھرتی کے تمام مراحل، بشمول سوالات کی تیاری، امتحان کا انعقاد، جوابات کی جانچ، میرٹ پر شارٹ لسٹنگ اور تقرری کے احکامات کا اجرا، انسانی مداخلت کے بغیر الگورتھم کے ذریعے مکمل کیے گئے۔ یوں پہلی مرتبہ کسی سلیکشن بورڈ یا انٹرویو پینل کے بجائے ایک خودکار نظام نے امیدواروں کا انتخاب کیا۔
اس تاریخی اقدام کا اختتام اس وقت ہوا جب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے خود کامیاب امیدواروں میں تقرری کے خطوط تقسیم کیے۔ اس موقع پر انہوں نے شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر ہونے والی اس بھرتی کو صوبائی اصلاحات کی جانب ایک بڑا قدم قرار دیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کا فریم ورک عمران زرقون نے تیار کیا، جو اے آئی گورننس اور ہیومن ریسورس مینجمنٹ میں تعلیمی پس منظر رکھتے ہیں۔ ان کا تیار کردہ نظام شفافیت، تیز رفتار بھرتی اور کم لاگت جیسے اصولوں پر مبنی تھا۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے اس تجویز کی منظوری دی، جس کے بعد اے آئی پر مبنی بھرتی کے نظام کو عملی شکل دی گئی۔
تفصیلات کے مطابق متعین نصاب کی بنیاد پر 30 ہزار سوالات پر مشتمل ایک جامع سوالیہ بینک تیار کیا گیا۔ 18 جنوری کو منعقد ہونے والے امتحان کے دوران امیدواروں کو اسمارٹ ٹیبلٹس فراہم کی گئیں۔ ہر امیدوار نے اپنا رول نمبر درج کیا، جس کے بعد اے آئی سسٹم نے فوری طور پر کثیرالانتخابی سوالات پر مشتمل ایک منفرد پرچہ تیار کیا۔
اس خودکار نظام کے باعث کسی بھی دو امیدواروں کو ایک جیسا پرچہ نہیں ملا، جس سے نقل اور جانبداری کے تمام امکانات ختم ہو گئے۔ مزید یہ کہ جیسے ہی کوئی امیدوار امتحان مکمل کرتا، اس کے حاصل کردہ نمبر فوری طور پر مرکزی اسکرین پر ظاہر ہو جاتے، جہاں امیدوار کا نام اور ضلع بھی نمایاں ہوتا، یوں نتائج میں کسی تاخیر یا ردوبدل کی گنجائش باقی نہ رہی۔
ماہرین کے مطابق بلوچستان کا یہ اقدام پاکستان میں سرکاری بھرتیوں کے روایتی نظام میں ایک انقلابی تبدیلی کی بنیاد رکھ سکتا ہے، اور اگر اسے دیگر صوبوں اور وفاقی اداروں تک وسعت دی جائے تو شفافیت اور میرٹ کے نئے معیارات قائم ہو سکتے ہیں۔